1. Skip to Menu
  2. Skip to Content
  3. Skip to Footer>

PDF Print E-mail

Written by ownislam Sunday, 06 May 2012 02:14

Article Index
حکایات صحابہ
دوسرا باب
تیسرا باب
چوتھا باب
پانچواں باب
چھٹاباب
ساتواں باب
آٹھواں باب
نواں باب
دسواں باب
گیارھواں باب
All Pages


حکایات صحابہ

مولف :شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب نور اﷲ مرقدہ

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

نحمدہ‘ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم والہ وصحبہ اتباعہ الحماۃ للذین القویم

اما بعد اللہ کے ایک برگزیدہ بندے اور میرے مربی ومحسن کا ارشاد ۵۳ھ؁ میں ہوا کہ صحابہء کرام ر ضی اللہ عنہم اجمعین کے چند قصے بالخصوص کم سن صحابہ رضی اﷲ عنہ اور عورتوں کی دینداری کی کچھ حالت اردو میں لکھی جائے تاکہ جو لوگ قصوں کے شوقین ہیں وہ واہی تباہی جھوٹی حکایات کی بجائے اگر ان کو دیکھیں تو ان کے لئے دینی ترقی کا سبب ہو اور گھر کی عورتیں اگر راتوں میں بچوں کو جھوٹی کہانیوں کے بجائے ان کو سنائیں تو بچوں کے دل  میں صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی محبت اور عظمت کے ساتھ دینی امور کی طرف رغبت پیدا ہو۔ میرے لئے اس ارشاد کی تعمیل بہت ہی ضروری تھی کہ احسانات میں ڈوبے ہونے کے علاوہ اللہ والوں کی خوشنودی دوجہان میں فلاح کا سبب ہوتی ہے ۔ مگر اس کے باوجود اپنی کم مائیگی سے یہ اُمید نہ ہوئی کہ میں اس خدمت کو مرضی کے موافق ادا کر سکتا ہوں ۔ اس لئے چار برس تک بار بار اس ارشاد کو سنتا رہا اور اپنی نا اہلیت سے شرمندہ ہوتا رہا کہ صفر ۱۳۵۷ھ؁ میں ایک مرض کی وجہ سے چند روز کے لئے دماغی کام سے روک دیا گیا۔ تو مجھے خیال ہوا کہ ان خالی ایام کو اس بابرکت مشغلہ میں گذاردوں کہ اگر یہ اوراق پسند خاطر نہ ہوئے تب بھی میرے یہ خالی اوقات تو بہترین اور بابرکت مشغلہ میں گذر ہی جائیں گے۔

اس میں شک نہیں کہ اللہ والوں کے قصے ان کے حالات یقینا اس قابل ہیں، کہ اُن کی تحقیق اور تفتیش کی جائے اور ان سے سبق حاصل کیا جائے ۔ بالخصوص صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اجمعین کی جماعت جس کو اللہ جل شانہ نے اپنے لاڈلے نبی اور پیارے رسول ﷺ کی مصاحبت کے لئے چنا اس کی مستحق ہے کہ اس کا اتباع کیا جائے۔ اس کے علاوہ اللہ والوں کے ذکر سے اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے۔ صوفیاء کے سردار حضرت جنید بغدادی رحمتہ اﷲ علیہ کا اِرشاد ہے کہ حکایتیں اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے جس سے مریدین کے دلوں کو تقویت حاصل ہوتی ہے کسی نے دریافت کیا کہ اسکی کوئی دلیل بھی ہے۔ فرمایا ہاں، اللہ جل شانہ ٗ کا ارشادہے۔ وَکُلاًّ نَقُصُّ عَلَیکَ مِنْ اَنبَآئِ الرُّسُلِ مَانُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ ج وَجَآئَ کَ فِیْ ھَذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَۃٌ وَّذِکْرٰی لِلْمُؤمِنِینَ ط ترجمہ:۔ ’’اور پیغمبروں کے قصّوں میں سے ہم یہ سارے قصے آپ سے بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ سے ہم آپ کے دل کو تقویت دیتے ہیں(ایک فائدہ تو یہ ہوا)اور ان قصوں میں آپ کے پاس ایسا مضمون پہنچتا ہے جو خود بھی راست اور واقعی ہے اور مسلمانوں کے لئے نصیحت ہے (اور اچھے کام کرنے کی) یاد دہانی ہے‘‘ (بیان القرآن)ایک ضروری بات یہ بھی دل میں جما لینے کی ہے کہ نبی اکرمﷺ کی حدیثیں ہوں یا بزرگوں کے حالات، اسی طرح مسائل کی کتابیں ہوں یا معتبر لوگوں کے وعظ و اِرشادات ، یہ ایسی چیزیں نہیں ہوتیں کہ ایک مرتبہ دیکھ لینے کے بعد ہمیشہ کو ختم کر دیا جائے بلکہ اپنی حالت اور استعداد کے موافق بار بار دیکھتے رہنا چاہیے۔ ابوسلیمان دارانی رحمتہ اﷲ علیہ ایک بزرگ ہیں ۔وہ فرماتے ہیں، کہ میں ایک واعظ کی مجلس میں حاضر ہوا ،اُن کے وعظ کا اثر فارغ ہونے کے بعد گھر کے راستہ میں بھی رہا، تیسری مرتبہ پھر حاضر ہوا، تو اس کا اثر گھر میں پہنچنے پر بھی رہا ، میں نے گھر جا کر اللہ کی نافرمانی کے جو اسباب تھے سب توڑدئیے اور اللہ کا راستہ اختیار کر لیا۔اسی طرح دینی کتابوں کا بھی حال ہے کہ محض سرسری طور پر ایک مرتبہ انکے پڑھ لینے سے اثر کم ہوتا ہے ، اس لئے کبھی کبھی پڑھتے رہنا چاہیے۔ پڑھنے والوں کی سہولت اور مضامین کی دل نشین ہونے کے خیال سے میں نے اس رسالہ بارہ ۲۱ بابوں اور ایک خاتمہ پر تقسیم کیا ہے ۔

۱: پہلا باب : دین کی خاطر سختیوں کا برداشت کرنا اور تکالیف و مشقت کا جھیلنا

۲:دوسراباب : اللہ جلا لہ کا خوف اورڈر جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی خاص عادت تھی

۳:تیسرا باب: صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی زاہدانہ اور فقیرانہ زندگی کا نمونہ

۴:چوتھا باب : صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے تقویٰ اور پرہیزگاری کی حالت

۵:پانچواں باب: نماز کا شوق اور اس کا اہتمام

۶:چھٹا باب: ہمدردی اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دینا اور اللہ کے راستہ میں خرچ کرنا

۷:ساتواں باب : بہادری و دلیری اور ہمت و شجاعت اور موت کا شوق۔

۸: آٹھواں باب: علمی مشاغل اور علمی انہماک کا نمونہ

۹:نواں باب: حضورِاقدس ﷺ کے ارشادات کی تعمیل

۱۰:دسواں باب: عورتوں کا دینی جذبہ اور بہادری اور حضور ﷺ کی بیبیوں اور اولاد کا بیان

۱۱:گیارہواں باب: بچوں کا دینی ولولہ اور بچپن میں دین کا اہتمام

۱۲:بارھواں باب: حضور اقدس ﷺ کے ساتھ محبت کا نمونہ

خاتمہ: صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے حقوق اور ان کے مختصر فضائل

پہلا باب

دین کی خاطرسختیوں کا برداشت کرنا اور تکالیف ومشقت کاجھیلنا

حضور اقدس ﷺ اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے دین کے پھیلانے میں جس قدر تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کی ہیں ان کا برداشت کرنا تو درکنار اس کا ارادہ کرنا بھی ہم جیسے نالائقوں سے دشوار ہے۔ تاریخ کی کتابیں ان واقعات سے بھری ہوئی ہیں۔ مگر ان پر عمل کرنا تو علیحدہ رہا، ہم اُن کے معلوم کرنے کی بھی تکلیف نہیں کرتے ۔ اس باب میں چند قصوں کو نمونہ کے طور پر ذکر کرنا ہے۔ ان میں سب سے پہلے خود حضور اکرم ﷺ کے ایک قصہ سے ابتدء کرتا ہوں کہ حضور ﷺ کا ذکر برکت کا ذریعہ ہے۔

۱۔ حضور اکرم ﷺ کے طائف کے سفر کا قصہ

نبوت مل جانے کے بعد نوبرس تک نبی اکرم ﷺ مکہ مکرمہ میں تبلیغ فرماتے رہے اور قوم کی ہدایت اور اصلاح کی کوشش فرماتے رہے، لیکن تھوڑی سی جماعت کے سوا جو مسلمان ہوگئی تھی اور تھوڑے سے ایسے لوگوں کے علاوہ جو باوجود مسلمان نہ ہونے کے آپ کی مدد کرتے تھے ۔ اکثر کفارمکہ آپ کو اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ہر طرح کی تکلیفیں پہنچاتے تھے ۔ مذاق اڑاتے تھے اور جو ہو سکتا تھا اس سے درگذر نہ کرتے تھے ۔ حضور ﷺ کے چچا ابو طالب بھی انہی نیک دل لوگوں میں تھے جو باوجود مسلمان نہ ہونے کے حضور ﷺ کی ہر قسم کی مدد فرماتے تھے ۔ دسویں سال میں جب ابو طالِب کا بھی انتقال ہوگیا تو کافروں کو اور بھی ہر طرح کھلے مہار اسلام سے روکنے اور مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کا موقع ملا۔ حضور اقدس ﷺ اس خیال سے طائف تشریف لے گئے کہ وہاں قبیلہ ثقیف کی بڑی جماعت ہے، اگر وہ قبیلہ مسلما ن ہو جائے تو مسلمانوں کو ان تکلیفوں سے نجات ملے اور دین کے پھیلنے کی بنیاد پڑ جائے ۔ وہاں پہنچ کرقبیلہ کے تین سرداروں سے جو بڑے درجے کے سمجھے جاتے تھے گفتگو فرمائی اور اللہ کے دین کی طرف بلایااور اللہ کے رسول کی یعنی اپنی مدد کی طرف متوجہ کیا ۔ مگر ان لوگوں نے بجائے اس کے کہ دین کی بات کو قبول کرتے یا کم سے کم عرب کی مشہور مہمان نوازی کے لحاظ سے ایک نووارد مہمان کی خاطرمدارات کرتے صاف جواب دے دیا اور نہایت بے رخی اور بد اَخلاقی سے پیش آئے۔ اُن لوگوں نے یہ بھی گوارا نہ کیا کہ آپ یہاں قیام فرمالیں جن لوگوں کو سردار سمجھ کر بات کی تھی کہ وہ شریف ہوں گے اور مہذب گفتگو کریں گے اُن میں سے ایک شخص بولا کہ اوہو آپ ہی کو اللہ نے نبی بناکر بھیجا ہے۔ دوسرا بولا کہ اللہ کو تمہارے سوا کوئی اور ملتا ہی نہیں تھا جس کو رسول بناکر بھیجتے۔ تیسرے نے کہا کہ میں تجھ سے بات کرنا نہیں چاہتا اس لئے کہ اگر تو واقعی نبی ہے جیسا کہ دعویٰ ہے تو تیری بات سے انکار کردینا مصیبت سے خالی نہیں، اور اگر جھوٹ ہے تو میں ایسی شخص سے بات کرنا نہیں چاہتا۔ اس کے بعد ان لوگوں سے نہ امید ہو کر حضورِاکرم ﷺ نے اور لوگوںسے بات کرنے کا ارادہ فرمایا کہ آپ ﷺ تو ہمت اور استقلال کے پہاڑ تھے مگر کسی نے بھی قبول نہ کیا۔ بلکہ بجائے قبول کرنے کے حضور ﷺ سے کہا کہ ہمارے شہر سے فورًا نکل جاؤ۔ اور جہاں تمہاری چاہت کی جگہ ہو وہاں چلے جاؤ۔حضورِاکرم ﷺ جب ان سے بالکل مایوس ہو کر واپس ہونے لگے تو ان لوگوں نے شہر کے لڑکوں کو پیچھے لگا دیا کہ آپ ﷺکا مذاق اُڑائیں ، تالیاں پیٹیں ، پتھر ماریں، حتیٰ کہ آپ ﷺ کے دونوں جوتے خون کے جاری ہونے سے رنگین ہو گئے ۔ حضورِ اقدس ﷺ اسی حالت میں واپس ہوئے جب راستہ میں ایک جگہ ان شریروں سے اطمینان ہوا تو حضور ﷺ نے یہ دُعا مانگی۔

اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ اَشْکُوْ ضُعْفَ قُوَّتِیْ وَ قِلَّۃَ حِیْلَتِیْ وَ ھَوَانِیْ عَلَی النَّاسِ یَا اَرحَمَ الرَّاحِمِینَ اَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ وَ اَنْتَ رَبِّی اِلٰی مَنْ تَکِلُنِیْ، اِلٰی بَعِیْدٍ یَتَجَھَّمُنِیْ اَمْ اِلٰی عَدُوٍّ مَلَّکْتَہٗ اَمْرِیْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ بِکَ عَلَیَّ غَضَبٌ فَلَا اُبَالِیْ وَ لٰکِنْ عَا فِیَتُکَ ھِیَ اَوْسَعُ لِیْ اَعُوْذُ بِنُوْرِ وَ جْھِکَ الَّذِیْ اَشْرَقَتْ لَہُ الظُّلُمٰاتُ وَ صَلُحَ عَلَیْہِ اَمْرُ الدُّنْیٰا وَ الْآخِرَۃِ مِنْ اَنْ تُنْزِلَ بِیْ غَضَبکَ اَوْ یَحُلَّمیں /spanspan style= عَلَیَّ سَخَطُکَ لَکَ الْعُتْبٰی حَتّٰی تَرْضٰی وَ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِک۔ فی سیرۃ ابن ھشام قلت: و اختلف الروایات فی الفاظ الدعاء کما فی قرۃ العیون۔

’’اے اللہ تجھی سے شکایت کرتا ہوں میں اپنی کمزوری اور بیکسی کی اور لوگوں میں ذلت اورسوائی کی ۔ اے ار حم الراحمین تو ہی ضعMsoNormalp class=#xa;line-height:150%;font-family:FA /spanفاء کارب ہے اور تو ہی میرا پروردگار ہے، تو مجھے کس کے حوالے کرتا ہے ۔ کسی اجنبی بیگانہ کے جو مجھے دیکھ کر ترش رُو ہوتا ہے اور منہ چڑھاتا ہے یاکہ کسی دشمن کے جس کو تو نے مجھ پر قابو دیدیا۔ اے اللہ اگر تو مجھ سے ناراض نہیں ہے تو مجھے کسی کی بھی پرواہ نہیں ہے۔ تیری حفاظت مجھے کافی ہے  میں تیرے چہرہ کے اُس نورکے طفیل جس سے تمام اندھیریاں روشن ہو گئیں اورجس سے دنیا اور آخرت کے سارے کام درست ہو جاتے ہیں اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ مجھ پر تیرا غصہ ہو یا تو مجھ سے ناراض ہو تیری نارضگی کا اس وقت تک دور کرنا ضروری ہے جب تک تو راضی نہ ہو، نہ تیرے سوا کوئی طاقت ہے نہ قوت

مالک الملک کی شان قہاری کو اس پر جوش آنا ہی تھا کہ حضرت جبرئیل نے آکر سلام کیا اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قوم کی وہ گفتگوجو آپ سے ہوئی سنی اور اُن کے جوابات سنے اور ایک فرشتہ کو جس کے متعلق پہاڑوں کی خدمت ہے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ جو چاہیں اس کو حکم دیں، اس کے بعد اس فرشتہ نے سلام کیا اور عرض کیا کہ جو اِرشاد ہو میں اس کی تعمیل کروں اگر ارشاد ہو تو دونوں جانب کے پہاڑوں کو ملا دوںجس سے یہ سب درمیان میں کچل جائیں یا اور جو سزا آپ تجویز فرمائیں ۔ حضور ﷺ کی رحیم وکریم ذات نے جواب دیا کہ میں اللہ سے اس کی امید رکھتا ہوں کہ اگر یہ مسلمان نہیں ہوئے تو اُن کی اولاد میں سے ایسے لوگ پیدا ہوں جو اللہ کی پرستش کریں اور اس کی عبادت کریں۔

ف: یہ ہیں اخلاق اس کریم ذات کے ہم لوگ نام لیوا ہیں کہ ہم ذرا سی تکلیف سے کسی کی معمولی سی گالی دیدینے سے ایسے بھڑک جاتے ہیں کہ پھر عمر بھر اس کا بدلہ کہیں اُترتا ظلم پر ظلم اس پر کرتے رہتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں اپنے محمدی ہونے کا، نبی کے پیرو بننے کا،نبی کریم ﷺ اتنی سخت تکلیف اور مشقت اُٹھانے کے با آٹھواں باب حضور اقدس ﷺ اور صحابہ کرام جود نہ بددعا فرماتے ہیں نہ کوئی بدلہ لیتے ہیں۔

۲۔ قصہ حضرت انس بن نضر رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا

حضرت انس بن نضر رضی اﷲ عنہ ایک صحابی تھے جوبدر کی لڑائی میں شریک نہیں ہو سکے تھے ۔ ان کو اس چیز کا صدمہ تھا اس پر اپنے نفس کو ملامت کرتے تھے کہ اسلام کی پہلی عظیم الشان لڑائی اور تو اس میں شریک نہ ہوسکا۔ اس کی تمنا تھی کہ کوئی دوسری لڑائی ہو تو حوصلے پورے کروں ۔ اتفاق سے احد کی لڑائی پیش آگئی جس میں یہ بڑی بہادری اور دلیری سے شریک ہوئے ۔ احد کی لڑائی میں اول اول تو مسلمانوں کو فتح ہوئی تو کافروں کو بھاگتا ہوا دیکھ کر یہ لوگ بھی اپنی جگہ سے یہ سمجھ کر ہٹ گئے کہ اب جنگ ختم ہوچکی اس لئے بھاگتے ہوئے کافروں کاپیچھا کیا جائے اور غنیمت کا مال حاصل کیا جائے۔ اس جماعت کے سردار نے منع بھی کیا کہ حضورﷺ کی ممانعت تھی ۔تم یہاں سے نہ ہٹو ۔مگر ان لوگوں نے یہ سمجھ کر کہ حضورﷺ کاارشاد صرف لڑائی کے وقت کے واسطے تھا ۔ وہاں سے ہٹ کر میدان میں پہنچ گئے۔ بھاگتے ہوئے کافروں نے اس جگہ کو خالی دیکھ کر اس طرف سے آکر حملہ کر دیا۔ مسلمان بے فکر تھے اس اچانک بے خبری کے حملہ سے مغلوب ہوگئے اور دونوں طرف سے کافروں کے بیچ میں آگئے جس کی وجہ سے اِدھر اُدھر پریشان بھاگ رہے تھے۔ حضرت انسؓ نے دیکھا کہ سامنے سے ایک دوسرے صحابی حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ عنہ آرہے ہیں ۔ ان سے کہا کہ اے سعد کہاں جارہے ہو، خدا کی قسم جنت کی خوشبو احد کے پہاڑ سے آرہی ہے ۔ یہ کہہ کر تلوار تو ہاتھ میں تھی ہی کافروں کی ہجوم میں گھس گئے اور اتنے شہید نہیں ہو گئے واپس نہیں ہوئے شہادت کے بعد ان کے بدن کو دیکھا گیا تو چھلنی ہو گیاتھا۔ اسی سے زیادہ زخم تیر اور تلوار کے بدن پر تھے ،اُن کی بہن نے اُنگلیوں کے پوروں سے اُن کو پہچانا۔

ف: جو لوگ اخلاص اور سچی طلب کے ساتھ اللہ کے کام میں لگ جاتے ہیں اُن کو دنیا ہی میں جنت کا مزہ آنے لگتا ہے ۔ یہ حضرت انس رضی اﷲ عنہ زندگی ہی میں جنت کی خوشبو سونگھ رہے تھے۔ اگر اخلاص آدمی میں ہو جاوے تو دنیا میں بھی جنت کا مزہ آنے لگتاہے۔ میں نے ایک معتبر شخص سے جو حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوری رحمتہ اﷲ علیہ کے مخلص خادم ہیں حضرت کا مقولہ سنا ہے کہ ’’جنت کا مزہ آرہا ہے‘‘ فضائل رمضان میں اس قصہ کو لکھ چکا ہوں۔

۳۔ صلح حدیبیہ اور ابو جندل رضی اﷲ عنہ اور ابو بصیر رضی اﷲ عنہ کا قصہ

۶ھ؁ میں حضور اقدس ﷺعمرہ کے ارادہ سے مکہ تشریف لے جارہے تھے۔ کفارِمکہ کو اسکی خبر ہوئی اوروہ اس خبرکو اپنی ذلت سمجھے اس لئے مزاحمت کی اور حدیبیہ میں آپ کو رکنا پڑا۔ جاں نثار صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ساتھ تھے جو حضور ﷺ پر جان قربان کرنا فکر سمجھتے ۔ لڑنے کو تیار ہوگئے۔مگر حضور ﷺ نے مکہ والوں کی خاطر سے لڑنے کا ارادہ نہیں فرمایا اور صلح کی کوشش کی اور باوجود صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی لڑائی پر مستعدی اور بہادری کے حضور اکرم ﷺ نے کفار کی اس قدر رعایت فرمائی کہ ان کی ہر شرط کو قبول فرمالیا۔ صحابہ رضی اﷲ عنہم کو اس طرح دب کر صلح کرنا بہت ہی ناگوار تھا مگر حضور ﷺ کے ارشاد کے سامنے کیا ہو سکتا تھا کہ جاں نثار تھے اور فرمانبردار،اس لئے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ جیسے بہادروں کو بھی دبنا پڑا۔ صلح میں جو شرطیں طے ہوئیں ان شرطوں میں ایک یہ شرط بھی تھی کہ کافروں میں سے جو شخص اسلام لائے اور ہجرت کرے مسلمان اس کو مکہ واپس کردیںاور مسلمانوں میں سے خدانخواستہ اگر کوئی مرتد ہو کر چلا آئے تو وہ واپس نہ کیا جائے یہ صلح نامہ ابھی تک پورا لکھا بھی نہیں گیا تھا کہ حضرت ابوجندل رضی اﷲ عنہ ایک صحابی تھے جو اسلام لانے کی وجہ سے طرح طرح کی تکلیفیں برداشت کر رہے تھے او ر زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے ۔ اسی حالت میں گرتے پڑتے مسلمانوں کے لشکر میں اس امید پر پہنچے کہ ان لوگوں کی حمایت میں جاکر اس مصیبت سے چھٹکارا پاؤں گا۔ اُن کے باپ سہیل نے جو اس صلح نامہ میں کفار کی طرف سے وکیل تھے اور اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، فتح مکہ میں مسلمان ہوئے۔انہوں نے صاحبزادے کے طمانچے مارے اور واپس لے جانے پر اصرار کیا۔ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ابھی صلح نامہ مرتب بھی نہیں ہوا اس لئے ابھی پابندی کس بات کی مگر اُنہوں نے اصرار کیا۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی مجھے مانگا ہی دے دو ۔ مگر وہ لوگ ضد پر تھے نہ مانا۔ ابو جندل رضی اﷲ عنہ نے مسلمانوں کو پکار کر فریاد بھی کی کہ میں مسلمان ہو کر آیا اور کتنی مصیبتیں اُٹھا چکا اب واپس کیا جارہا ہوں، اس وقت مسلمانوں کے دلوں پر جو گذررہی ہوگی اللہ ہی کو معلوم ہے مگر حضورﷺ ا رشاد سے واپس ہوئے حضورﷺ نے تسلی فرمائی اور صبر کرنے کا حکم دیا،اور فرمایا کہ عنقریب حق تعالیٰ شانہٗ تمہارے لئے راستہ نکالیں گے صلح نامہ کے مکمل ہو جانے کے بعد ایک دوسرے صحابی ابو بصیر رضی اﷲ عنہ بھی مسلمان ہو کر مدینہ منورہ پہنچے ۔ کفار نے ان کو واپس بلانے کے لئے دو آدمی بھیجے حضورِ اقدسﷺنے حسب وعدہ واپس فرمادیا۔ ابو بصیر رضی اﷲ عنہ نے عرض بھی کیاکہ یا رسول اللہﷺ میں مسلمان ہو کر آیا آپ مجھے کفار کے پنجہ میں پھر بھیجتے ہیں ۔ آپ نے ان سے بھی صبر کرنے کو ارشاد فرمایا اور فرمایا کہ انشاء اللہ عنقریب تمہارے واسطے راستہ کھلے گا۔ یہ صحابی ان دونوں کافروں کے ساتھ واپس ہوئے ۔ راستہ  میں ان میں سے ایک سے کہنے لگے کہ یار تیری یہ تلوار تو بڑی نفیس معلوم ہوتی ہے۔ شیخی باز آدمی ذرا سی بات میں پھول ہی جاتا ہے وہ نیام سے تلوار نکال کر کہنے لگا کہ ہاں میں نے بہت سے لوگوں پر اس کا تجربہ کیا ہے یہ کہہ کر تلوار ان کے حوالہ کردی۔ اُنہوں نے اسی پر اس کا تجربہ کیا۔ دوسرا ساتھی یہ دیکھ کر کہ ایک کو تو نمٹا دیا اب میرا نمبر ہے۔ بھاگا ہوا مدینہ آیا اور حضور اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میرا ساتھی مر چکا ہے اب میرا نمبر ہے۔ اس کی بعد ابو بصیر رضی اﷲ عنہ پہنچے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ اپنا وعدہ پورا فرما چکے کہ مجھے واپس کر دیا اور مجھ سے کوئی عہد ان لوگوں کا نہیں ہے جس کی ذمہ داری ہو ۔ وہ مجھے میرے دین سے ہٹاتے ہیں۔ اس لئے میں نے یہ کیا۔ حضور ﷺنے فرمایا کہ لڑائی بھڑکانے والا ہے۔ کاش کوئی اس کا معین ومدد گار ہوتا وہ اس کلام سے سمجھ گئے کہ اب بھی اگر کوئی میری طلب میں آئے گا تو میں واپس کر دیا جائوں گا۔ اس لئے وہ وہاں سے چل کر سمندر کے کنارے ایک جگہ آپڑے۔ مکہ والوں کو اس قصہ کا حال معلوم ہوا تو ابو جندل رضی اﷲ عنہ بھی جن کا قصہ پہلے گذرا چھپ کر وہیں پہنچ گئے۔ اسی طرح جو شخص مسلمان ہوتا وہ انکے ساتھ جا ملتا۔ چند روز میں یہ ایک مختصر سی جماعت ہو گئی جنگل میں جہاں نہ کھانے کا کوئی انتظام، نہ وہاں باغات اور آبادیاں، اس لئے ان لوگوں پر جو گذری ہو گی وہ تو اللہ ہی کو معلوم ہے۔ مگر جن ظالموں کے ظلم سے پریشان ہو کر یہ لوگ بھاگے تھے انکا ناطقہ بند کر دیا۔ جو قافلہ ادھر کو جاتا اس سے مقابلہ کرتے اور لڑتے۔حتیٰ کہ کفار مکہ نے پریشان ہو کر حضورﷺکی خدمت میں عاجزی اور منت کرکے اللہ کا اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر آدمی بھیجا کہ اس بے سری جماعت کو آپ اپنے پاس بلا لیں کہ یہ معاہدہ میں تو داخل ہو جائیں اور ہمارے لئے آنے جانے کا راستہ کھلے ۔لکھا ہے کہ حضورﷺکا اجازت نامہ جب ان حضرات کے پاس پہنچا تو ابو بصیر رضی اﷲ عنہ مرض الموت میں گرفتار تھے ۔ حضور ﷺکا والا نامہ ہاتھ میں تھا کہ اسی حالت میں انتقال فرمایا(رضی اللہ عنہ و ارضاہ(

ف:آدمی اگر اپنے دین پر پکا ہو، بشرطیکہ دین بھی سچا ہو تو بڑی سے بڑی طاقت اس کو نہیں ہٹاسکتی اور مسلمان کی مدد کا تو اللہ کا وعدہ ہے بشرطیکہ وہ مسلمان ہو۔

۴۔ حضرت بلال حبشی رضی اﷲ عنہ کا اسلام اور مصائب

حضرت بلال حبشی رضی اﷲ عنہ مشہور صحابی ہیں جو مسجد نبوی کے ہمیشہ مؤذن رہے۔ شروع میں ایک کافر کے غلام تھے۔ اسلام لے آئے جس کی وجہ سے طرح طرح کی تکلیفیں دیئے جاتے تھے ۔ امیہ بن خلف جو مسلمانوں کا سخت دشمن تھا ان کو سخت گرمی میں دوپہر کے وقت تپتی ہوئی ریت پر سیدھالٹاکر ان کے سینہ پرپتھر کی بڑی چٹان رکھ دیتا تھا تاکہ وہ حرکت نہ کر سکیں اور کہتا تھا کہ یا اس حال میں مرجائیں اور زندگی چاہیں تو اسلام سے ہٹ جائیں مگر وہ اس حالت میں بھی اَحد اَحدکہتے تھے یعنی معبود ایک ہی ہے۔ رات کو زنجیروں میں باندھ کر کوڑے لگائے جاتے اور اگلے دن ان زخموں کو گرم زمین پر ڈال کر اور زیادہ زخمی کیا جاتا تاکہ بے قرار ہو کر اسلام سے پھر جاویں یا تڑپ تڑپ کر مر جائیں۔ عذاب دینے والے اُکتا جاتے۔ کبھی ابو جہل کا نمبر آتا۔ کبھی امیہ بن خلف کا، کبھی اوروں کا، اور ہر شخص اس کی کوشش کرتا کہ تکلیف دینے میں زور ختم کر دے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اس حالت میں دیکھا تو اُن کو خرید کر آزاد فرمایا۔

ف: چونکہ عرب کے بت پرست اپنے بتوں کو بھی معبود کہتے تھے اس لئے اُن کے مقابلہ میں اسلام کی تعلیم توحید کی تھی، جس کی وجہ سے حضرت بلال رضی اﷲ عنہ کی زبان پر ایک ہی ایک کا ورد تھا۔ یہ تعلق اور عشق کی بات ہے ہم جھوٹی محبتوں میں دیکھتے ہیں کہ جس سے محبت ہو جاتی ہے اس کا نام لینے میں لطف آتا ہے۔ بے فائدہ اس کو رٹا جاتا ہے تو اللہ کی محبت کا کیا کہنا جو دین اور دنیا میں دونوں جگہ کام آنے والی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت بلال رضی اﷲ عنہ کو ہر طرح سے ستایا جاتا تھا۔ سخت سے سخت تکلیفیں پہنچائی جاتی تھیں ۔ مکہ کے لڑکوں کے حوالہ کر دیا جاتا کہ وہ اُن کو گلی کو چوں میں چکر دیتے پھریں اور یہ تھے کہ ’’ ایک ہی ایک ہے‘‘ کی رٹ لگاتے تھے ۔ اسی کا یہ صلہ ملا کہ پھر حضورﷺکے دربار میں مئوذن بنے اور سفر حضر میں ہمیشہ اذان کی خدمت اُن کے سپرد ہوئی ۔ حضور ﷺکے وصال کے بعد مدینہ طیبہ میں رہنا اور حضورﷺکی جگہ کو خالی دیکھنا مشکل ہوگیا۔ اس لئے ارادہ کیا کہ اپنی زندگی کے باقی دن ہیں جہاد میں گزاردوں اسلئے جہاد میں شرکت کی نیت سے چل دیئے۔ ایک عرصہ تک مدینہ منورہ لوٹ کر نہیں آئے ۔ ایک مرتبہ حضورﷺکی خواب میں زیارت کی۔ حضورﷺنے فرمایا بلال یہ کیا ظلم ہے ہمارے پاس کبھی نہیں آتے تو آنکھ کھلنے پر مدینہ طیبہ حاضر ہوئے۔ حضرت حسن حسین iنے اذان کی فرمائش کی۔ لاڈلوں کی فرمائش ایسی نہیں تھی کہ انکار کی گنجائش ہوتی۔ اذان کہنا شروع کی اور مدینہ میں حضورﷺ کے زمانہ کی اذان کانوں میں پڑ کرspan style= کہرام مچ گیا۔ عورتیں تک روتی ہوئی گھر سے نکل پڑیں ۔ چند روز قیام کے بعد واپس ہوئے اور ۲۰ھ؁کے قریب دمشق میں وصال ہوا۔ (اسد الغابہ(

۵۔حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ عنہ کا اسلام

حضرت ابو ذر غفاری رضی اﷲ عنہ مشہور صحابی ہیں جو بعد میں بڑے زاہدوں اور بڑے علماء میں سے ہوئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے کہ ابوذر ایسے علم کہ حاصل کئے ہوئے ہیں جس سے لوگ عاجز ہیں۔مگر انہوں نے اس کو محفوظ کر رکھا ہے ۔ جب ان کو حضور اقدس ﷺکی نبوت کی پہلے پہل خبر پہنچی ، تو انہوں نے اپنے بھائی کو حالات کی تحقیق کے واسطے مکہ بھیجا کہ جو شخص کہ دعویٰ کرتا ہے کہ میرے پاس وحی آتی ہے اور آسمان کی خبریں آتی ہیں اس کے حالات معلوم کریں اور اس کے کلام کو غور سے سنیں۔ وہ مکہ مکرمہ آئے اور حالات معلوم کرنے کے بعد اپنے بھائی سے جاکر کہاکہ میں نے ان کو اچھی عادتوں اور عمدہ اخلاق کا حکم کرتے دیکھا اور ایک ایسا کلام سنا جو نہ شعر ہے نہ کاہنوں کا کلام ہے۔ ابوذر رضی اﷲ عنہ کی اس مجمل بات سے تشفی نہ ہوئی تو خود سامان سفر کیا اورمکہ پہنچے اور سیدھے مسجد حرام  میں گئے ۔ حضور ﷺکو پہچانتے نہیں تھے اور کسی سے پوچھنا مصلحت کے خلاف سمجھا، شام تک اسی حال میں رہے۔ شام کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے دیکھا کہ ایک پردیسی مسافر ہے۔ مسافروں کی، غریبوں کی، پردیسیوں کی خبر گیری، ان کی ضرورتوں کا پورا کرنا ان حضرات کی گھٹی  میں پڑا ہوا تھا۔ اس لئے ان کو اپنے گھر لے آئے۔ میزبانی فرمائی لیکن اس کے پوچھنے کی کچھ ضرورت نہ سمجھی کہ کون ہو، کیوں آئے ، مسافر نے بھی کچھ ظاہر نہ کیا۔ صبح کو پھر مسجد میں آگئے اور دن بھر اسی حال میں گذرا کہ خود پتہ نہ چلا اور دریافت کسی سے کیا نہیں۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہوگی کہ حضورﷺ کے ساتھ دشمنی کے قصے بہت مشہور تھے۔آپ کو اور آپ کے ملنے والوں کو ہر طرح کی تکلیفیں دی جاتی تھیں ۔ ان کو خیال ہوا ہو کہ صحیح حال معلوم نہیں ہو گا اور بدگمانی کی وجہ سے مفت کی تکلیف علیٰحدہ رہی۔ دوسری دن شام کو پھر حضرت علی رضی اﷲ عنہ کو خیال ہوا کہ پردیسی مسافر ہے بظاہر جس۔غرض کے لئے آیا ہے وہ پوری نہیں ہوئی، اس لئے پھر اپنے گھر لے گئے اور رات کو کھلایا سلایا، مگر پوچھنے کی اس رات بھی نوبت نہ آئی ۔ تیسری رات کو پھر یہی صورت ہوئی۔ تو حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے دریافت کیا کہ تم کس کام آئے ہو، کیا غرض ہے تو حضرت ابو ذر رضی اﷲ عنہ نے اول ان کہ قسم اور عہدو پیمان دیئے، اس بات کے کہ وہ صحیح بتائیں ۔ اس کے بعد اپنی غرض بتلائی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ وہ بیشک اللہ کے رسول ہیں اور صبح کو جب میں جائوں تو تم میرے ساتھ چلنا میں وہاں تک پہنچا دوں گا۔ لیکن مخالفت کا زور ہے اس لئے راستہ میں اگر مجھے کوئی شخص ایساملاجس سے میرے ساتھ چلنے کی وجہ سے تم پر کوئی اندیشہ ہو تو میں پیشاب کرنے لگوں گا یا اپنا جوتہ درست کر نے لگوںگا،تم سیدھے چلے چلنا ، میرے ساتھ ٹھہرنا نہیں جس کی وجہ سے تمہارا میرا ساتھ ہونا معلوم نہ ہو۔ صبح کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پیچھے پیچھے حضورﷺکی خدمت میں پہنچے ۔ وہاں جا کر بات چیت ہوئی، اسی وقت مسلمان ہوگئے ۔ حضور اقدسﷺنے ان کی تکلیف کے خیال سے فرمایا کہ اپنے اسلام کو ابھی ظاہر کہ کرنا چپکے سے اپنی قوم میں چلے جائو ، جب ہمارا غلبہ ہو جائے اس وقت چلے آنا۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺاس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اس کلمہ توحید کو ان بے ایمانوں کے بیچ میں چلا کے پڑھوں گا۔ چنانچہ اسی وقت مسجد حرام میں تشریف لے گئے اور بلند آواز سے اَشْہَدُ اَنْ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَ اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اَللّٰہ‘‘ پڑھا ۔پھر کیاتھا چاروں طرف سے لوگ اٹھے اور اس قدر مارا کہ زخمی کردیا مرنے کے قریب ہو گئے۔ حضورﷺکے چچا حضرت عباس رضی اﷲ عنہ وہ اس وقت تک مسلمان بھی نہیں ہوئے تھے ان کے اوپر بچانے کے لئے لیٹ گئے اور لوگوں سے کہا کہ کیا ظلم کرتے ہو، یہ شخص قبیلہ غفار کا ہے اور یہ قبیلہ ملک شام کے راستہ میں پڑتا ہے تمہاری تجارت وغیرہ سب ملک شام کے ساتھ ہے۔اگر یہ مر گیا تو شام کا جانا آنا بند ہو جائے گا۔ اس پر ان لوگوں کہ بھی خیال ہوا کہ ملک شام سے ساری ضروتیں پوری ہوتی ہیں وہاں کا راستہ بند ہو جانا مصیبت ہے اس لئے ان کو چھوڑ دیا۔ دوسرے دن پھر اسے طرح انہوں نے جاکر بآوازبلند کلمہ پڑھا۔ اور لوگ اس کلمہ کے سننے کی تاب نہ لا سکتے تھے، اس لئے ان پر ٹو ٹ پڑے۔ دوسرے دن بھی حضرت عباس رضی اﷲ عنہ نے اسی طرح ان کو سمجھا کر ہٹایا کہ تمہاری تجارت کا راستہ بند ہو جائے گا۔

ف: حضورﷺکے اس ارشاد کے باوجود کہ اپنے اسلام کو چھپاؤ،ان کا یہ فعل حق کے اظہار کا ولولہ اور غلبہ تھا کہ جب یہ عین حق ہے تو کسی کے باپ کا کیا اجارہ ہے جس سے ڈر کر چھپایا جائے۔ اور حضورﷺکا منع فرمانا شفقت کی وجہ سے تھا کہ ممکن ہے تکالیف کا تحمل نہ ہو ، ورنہ حضورﷺکے حکم کے خلاف صحابہ کی یہ مجال ہی نہ تھی ۔ چنانچہ اس کا کچھ نمونہ مستقل باب میں آرہا ہے۔ چونکہ حضوراقدسﷺخود ہی دین کے پھیلانے میں ہر قسم کی تکلیفیں برداشت فرما رہے تھے،اس لئے حضرت ابو ذر نے سہولت پر عمل کے بجائے حضورﷺکے اتباع کو ترجیح دی۔یہی ایک چیز تھی کہ جس کی وجہ سے ہر قسم کی ترقی دینی و دنیوی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے قدم چوم رہی تھی اور ہر میدان ان قبصہ میں تھا کہ جو شخص تھی ایک مرتبہ کلمہ شہادت پڑھ کر اسلام کے جھنڈے کے نیچے آجانا تھا، بڑی سے بڑی قوت تھی اس کو روک نہ سکتی تھی اور نہ بڑے سے بڑا ظلم اس کو دین کی اشاعت سے ہٹا سکتا تھا۔

۶۔حضرت خباب بن الارت رضی اﷲ عنہ کی تکلیفیں

حضرت خباب بن الارت رضی اﷲ عنہ بھی انہی مبارک ہستیوں میں ہیں ۔ جنہوں نے امتحان کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا تھا اور اللہ کے راستہ میں سخت سے سخت تکلیفیں برداشت کیں۔ شروع ہی میں پانچ چھ آدمیوں کے بعد مسلمان ہو گئے تھے، اس لئے بہت زمانہ تک تکلیفیں اٹھائیں ۔ لوہے کی زرہ پہنا کر ان کو دھوپ میں ڈال دیا جاتا جس سے گرمی اور تپش کی وجہ سے پسینوں پر پسینے بہتے رہتے تھے۔اکثراوقات بالکل سیدھا گرم ریت پر لٹا دیا جاتا جس کی وجہ سے کمر کا گوشت تک گل گیا تھا۔ یہ ایک عورت کے غلام تھے اس کو خبر پہنچی کہ یہ حضور اقدس ﷺ سے ملتے ہیں تو اس کی سزا میں لوہے کو گرم کر کے ان کے سر کو اس سے داغ دیتی تھی۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے ایک مرتبہ عرصہ کے بعد اپنے زمانۂ خلافت میں حضرت خباب رضی اﷲ عنہ سے ان تکالیف کی تفصیل پوچھی ، جو ان کو پہنچائی گئیں انہوں نے عرض کیا کہ میری کمر دیکھیں ۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے کمر دیکھ کر فرمایا کہ ایسی کمر تو کسی کی دیکھی ہی نہیںانہوں نے عرض کیا کہ مجھے آگ کے انگاروں پرڈال کر گھسیٹا گیا میری کمر کی چربی اور خون سے وہ آگ بجھی۔ ان حالات کے باوجود جب اسلام کہ ترقی ہوئی اور فتوحات کا دروازہ کھلا تو اس پر رویا کرتے کہ خدانخواستہ ہماری تکالیف کا بدلہ کہیں دنیا ہی میں تو نہیں مل گیا۔ حضرت خباب رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اقدس ﷺ نے خلاف عادت بہت ہی لمبی نماز پڑھی ۔صحابہ رضی اﷲ عنہ اس کے متعلق عرض کیا تو حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ رغبت و ڈر کی نماز تھی ۔ میں نے اس میں اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کی تھیں۔ دو اِن میں سے قبول ہوئیں اور ایک کو انکار فرمادیا۔ میں نے یہ دعا کی کہ میری ساری امت قحط سے ہلاک نہ ہو جائے یہ قبول ہوگئی ۔دوسری یہ دعا کی کہ ان پر کوئی ایسا دشمن مسلط نہ ہوجو ان کو بالکل مٹا دے یہ بھی قبول ہوگئی۔ تیسری یہ دعا کی کہ ان میں آپس میں لڑائی جھگڑے نہ ہوں یہ بات منظور نہیں ہوئی۔ حضرت خباب رضی اﷲ عنہ کا انتقال سینتیس سال کی عمر ہوا اور کوفہ میں سب سے پہلے صحابی یہی دفن ہوئے ۔ ان کے انتقال کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا گذر ان کی قبر پر ہوا تو ارشاد فرمایا ۔ اللہ خباب پر رحم فرمائیں اپنی رغبت سے مسلمان ہوا اور خوشی سے ہجرت کی اور جہاد میں زندگی گذار دی اور مصیبتیں برداشت کیں ۔ مبارک ہے وہ شخص جو قیامت کو یاد رکھے اور حساب کتاب کی تیاری کرے اور گذارہ کے قابل مال پر قناعت کرے اور اپنے مولا کو راضی کرلے ۔ (اسدالغابہ(

ف: حقیقت میں مولا کو راضی کر لینا انہی لوگوں کا حصہ تھا کہ ان کی زندگی کا ہر کام مولیٰ ہی کی رضا کے واسطے تھا۔

۷:حضرت عمار رضی اﷲ عنہ اور اُن کے والدین کا ذکر

حضرت عمار رضی اﷲ عنہ اور ان کے ماں باپ کو بھی سخت سے سخت تکلیفیں پہنچائی گئیں۔ مکہ کی سخت گرم اور ریتلی زمین میں اُن کو عذاب دیا جاتا اور حضور اقدسﷺکا اس طرف گذر ہوتا تو صبر کی تلقین فرماتے اور جنت کی بشارت فرماتے۔ آخر ان کے والد حضرت یاسر رضی اﷲ عنہ اسی حالتِ تکلیف میں وفات پا گئے کہ ظالموں نے مرنے تک چین نہ لینے دیا اور ان کی والدہ حضرت سمیہ کی شرمگاہ میں ابو جہل ملعون نے ایک برچھا مارا جس سے وہ شہید ہوگئیں مگر اسلام سے نہ ہٹیں حالانکہ بوڑھی تھیں ضعیف تھیں مگر اس بدنصیب نے کسی چیز کا بھی خیال نہیں کیا ۔ اسلام میں سب سے پہلی شہادت ان کی ہے اور اسلام میں سب سے پہلی مسجد حضرت عمار رضی اﷲ عنہ کی بنائی ہوئی ہے۔ جب حضور اقدسﷺہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے گئے تو حضرت عمار رضی اﷲ عنہ نے کہا کہ حضور ﷺکے لئے ایک مکان سایہ کا بنانا چاہیے جس میں تشریف رکھا کریں، دوپہر کو آرام فرمالیا کریں اور نماز بھی سایہ میں پڑھ سکیں تو قبا میں حضرت عمار رضی اﷲ عنہ نے اول پتھر جمع کئے اور پھر مسجد بنائی۔ لڑائی نہایت جوش سے شریک ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ مزے  میں آ کر کہنے لگے کہ اب جاکر دوستوں سے ملیں گے ، محمدﷺاور اُن کی جماعت سے ملیں گے ۔ اتنے میں پیاس لگی اور پانی کسی سے مانگا ، اس نے دودھ سامنے کیا۔ اس کو پیا اور پی کر کہنے لگے کہ میں نے حضورﷺ سے سُنا کہ تو دنیا میں سب سے آخری چیز دودھ پئے گا اس کے بعد شہید ہو گئے ۔ اُس وقت چورانوے برس کی عمر تھی ۔ بعض نے ایک آدھ سال کم بتلائی ہے۔ (اسدالغابہ(

۸:حضرت صہیب رضی اﷲ عنہ کا اسلام

حضرت صہیب رضی اﷲ عنہ بھی حضرت عمار رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مسلمان ہوئے۔ نبی اکرمﷺ حضرت ارقم رضی اﷲ عنہ صحابی کے مکان پر تشریف فرما تھے کہ یہ دونوں اتفاقیہ اکٹھے ہو گئے ۔ ہر ایک نے دوسرے کی غرض معلوم کی تو ایک ہی غرض یعنی اسلام لانا اور حضورﷺ کے ف#xa;150%;font-family:font-size: lang=یض سے مستفید ہونا دونوں کا مقصود تھا۔ اسلام لائے اور اسلام لانے کے بعد جو اُس زمانہ میں اس قلیل اور کمزور جماعت کو پیش آتا تھا وہ پیش آیا ۔ ہر طرح ستائے گئے ، تکلیفیں پہنچائی گئیں ،آخر تنگ آکر ہجرت کا ارادہ فرمایا تو کافروں کو یہ چیز بھی گوارا نہ تھی کہ یہ لوگ کسی دوسری ہی جگہ جاکر آرام سے زندگی بسر کر لیں۔ اسلئے جس کسی کی ہجرت کا حال معلوم ہوتا تھا اس کو پکڑنے کی کو شش کرتے تھے ، کہ تکالیف سے نجات نہ پاسکے۔ چنانچہ ان کا بھی پیچھا کیا گیا اور ایک جماعت ان کو پکڑنے کے لئے گئی۔ انہوں نے اپنا ترکش سنبھالا جس میں تیر تھے اور ان لوگوں سے کہا کہ دیکھو تمہیں معلوم ہے کہ میں تم سب سے زیادہ تیر انداز ہوں، اتنے ایک بھی تیر میرے پاس باقی رہے گا تم لوگ مجھ تک نہیں آسکو گے اور جب ایک بھی تیر نہ رہے گا تو میں اپنی تلوار سے مقابلہ کروں گا یہاں تک کہ تلوار بھی میرے ہاتھ میں نہ رہے۔ اس کے بعد جو تم سے ہو سکے کرنا۔ اس لئے اگر تم چاہو تو اپنی جان کے بدلہ میں اپنے مال کا پتہ بتلا سکتا ہوں جو مکہ میں ہے، اور دو باندیاں بھی ہیں وہ سب تم لے لو۔ اس پر وہ لوگ راضی ہو گئے اور اپنا مال دیکر جان چھڑائی ۔ اسی بارہ میں آیت پاک { وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَہُ ابْتِغَآئَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ، وَ اللّٰہُ رَؤُفُ بِالْعِبَادِ، } نازل ہوئی۔ (در منثور ) ترجمہ: بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کی رضا کے واسطے اپنی جان کو خرید لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بندوں پر مہربان ہیں ۔ حضور ﷺ اس وقت قبا میں تشریف فرما تھے ۔ صورت دیکھ کر ارشاد فرمایاکہ نفع کی تجارت کی۔ صہیب رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺاس وقت کھجور نوش فرمارہے تھے۔ اور میری آنکھ دکھ رہی تھی۔ میں بھی ساتھ کھانے لگا۔ حضورﷺنے فرمایا آنکھ تو دُکھ رہی ہے اور کھجوریں کھاتے ہو۔ میں نے عرض کیا کہ حضور ﷺاُس آنکھ کی طرف سے کھاتا ہوں جو تندرست ہے۔ حضورﷺ یہ جواب سن کر ہنس پڑے۔ حضرت صہیب رضی اﷲ عنہ بڑے ہی خرچ کرنے والے تھے حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے ان سے فرمایا کہ تم فضول خرچی کرتے ہو۔ انہوں نے عرض کیا کہ ناحق کہیں خرچ نہیں کرتا۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا جب وصال ہونے لگا تو ان ہی کو جنازہ کی نماز پڑھانے وصیت فرمائی تھی۔ (اسد الغابہ(

۹۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا قصہ

حضرت عمر رضی اﷲ عنہ جن کے پاک نام پر آج مسلمانوں کو فخر ہے اور جن کے جوشِ ایمانی سے آج تیرہ سو برس بعد تک کافروں کے دلوں میں خوف ہے۔ اسلام لانے سے قبل مسلمانوں کے مقابلے اور تکلیف پہنچانے میں بھی ممتاز تھے۔ نبی اکرم ﷺ کے قتل کے در پے رہتے تھے۔ ایک روز کفار نے مشورہ کی کمیٹی قائم کی کہ کوئی ہے جو محمدﷺکو قتل کر دے۔ عمر نے کہا کہ میں کرونگا۔ لوگوں نے کہا کہ بیشک تم ہی کر سکتے ہو۔ عمر تلوار لٹکائے ہوئے اٹھے اور چل دئے۔ اسی فکر میں جارہے تھے کہ ایک صاحب قبیلہ زہرہ کے جن کا نام حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ ہے اوربعضوںنے اور صاحب لکھے ہیں ، ملے انہوں نے پوچھا کہ عمر کہاں جارہے ہو؟ کہنے لگے کہ محمد ﷺ کے قتل کی فکر میں ہوں (نعوذ باللہ ) سعد نے کہا کہ بنو ہاشم اور بنو زہرہ اور بنو عبد ِمناف سے کیسے مطمئن ہوگئے، وہ تم کو بدلہ  میں قتل کر دیں گے۔ اس جواب پر بگڑ گئے اور کہنے لگے کہ معلوم ہوتا ہے تو بھی بے دین (یعنی مسلمان) ہو گیا۔ لا پہلے تجھی کو نمٹا دوں ۔ یہ کہہ کر تلوار سونت لی ا ور حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے بھی یہ کہہ کر کہ ہاں میں مسلمان ہو گیا ہوں ، تلوار سنبھالی ۔ دونوں طرف سے تلوار چلنے کو تھی کہ حضرت سعد رضی اﷲ عنہ نے کہا کہ پہلے اپنے گھر کی تو خبر لے، تیری بہن اور بہنوئی دونوں مسلمان ہو چکے ہیں۔یہ سننا تھا کہ غصہ سے بھر گئے اور سیدھے بہن کے گھر گئے۔ وہاں حضرت خباب رضی اﷲ عنہ جن کا ذکر نمبر ۶ پر گذرا، کواڑ بند کئے ہوئے ان دونوں میاں بیوی کو قرآ ن شریف پڑھا رہے تھی۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے کواڑ کھلوائے۔ ان کی آواز سے حضرت خباب رضی اﷲ عنہ تو جلدی سے اندر چھپ گئے اور وہ صحیفہ بھی جلدی میں باہر ہی رہ گیا جس پر آیات قرآنی لکھی ہوئی تھیں۔ ہمشیرہ نے کواڑ کھولے۔ حضرت عمر کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جس کوبہن کے سر پر مارا، جس سے سر سے خون بہنے لگا اور کہا کے اپنی جان کی دشمن تو بھی بددین ہو گئی۔ اس کے بعد گھر میں آئے اور پوچھا کہ کیا کر رہے تھے اور یہ آواز کس کی تھی۔ بہنوئی نے کہا کہ بات چیت کر رہے تھے ۔ کہنے لگے۔ ’’ کیا تم نے اپنے دین کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کر لیا‘‘۔ بہنوئی نے کہا کہ اگر دوسرا دین حق ہو تب، یہ سننا تھا کہ انکی ڈاڑھی پکڑ کر کھینچی، اور بے تحاشا ٹوٹ پڑے اور زمین پر گرا کر خوب مارا۔ بہن نے چھڑانے کی کوشش کی تو انکے منہ پر ایک طمانچہ اس زور سے مارا کہ خون نکل آیا ۔ وہ بھی آخر عمرہی کی بہن تھیں، کہنے لگیں کہ عمر ہم کو اس وجہ سے مارا جاتاہے کہ ہم مسلمان ہو گئے بیشک ہم مسلمان ہو گئے ہیں جو تجھ سے ہو سکے توکر لے۔ اس کے بعد حضرت عمر کی نگاہ اس صحیفہ پر پڑی جو جلدی میں باہر رہ گیا تھا اور غصہ کا جوش بھی اس مار پیٹ سے کم ہو گیا تھا ۔ اور بہن کے اس طرح خون میں بھر جانے سے شرم سی بھی آرہی تھی۔ کہنے لگے کہ اچھا مجھے دکھلائو یہ کیا ہے بہن نے کہا تو ناپاک ہے اور اس کو ناپاک ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ ہر چند اصرار کیا مگر وہ بے وضو اور غسل کے دینے کو تیار نہ ہوئیں ۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے غسل کیا اور اس کو لے کر پڑھا ۔ اس میں سورہ طٰہٰ لکھی ہوئی تھی اس کو پڑھنا شروع کیا اور {اِنَّنِیْ اَنَا اللّٰہُ لاَ اِلٰہَ الَّا اَنَا فَاعْبُدْنِیْ وَ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ } تک پڑھا تھا کہ حالت ہی بدل گئی۔ کہنے لگے کہ اچھا مجھے بھی محمد ﷺ کی خدمت میں لے چلو۔ یہ الفاظ سن کر حضرت خباب رضی اﷲ عنہ اندر سے نکلے اور کہا کہ اے عمر رضی اﷲ عنہ تجھے خوشخبری دیتا ہوں کہ کل شب پنچ شنبہ میں حضورِ اقدسﷺ نے دعا مانگی تھی کہ یا اللہ عمر ( رضی اﷲ عنہ ) اور ابو جہل میں جو تجھے زیادہ پسند ہو اس سے اسلام کو قوت عطافرما(یہ دونوں قوت میں مشہور تھے )معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی دعا تمہارے حق میں قبول ہوگئی۔ اس کے بعد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جمعہ کی صبح کو مسلمان ہوئے(خصاص) ان کا مسلمان ہونا تھا کہ کفار کے حوصلے پست ہونا شروع ہو گئے۔مگر پھر بھی یہ نہایت مختصر جماعت تھی اور وہ سارا مکہ بلکہ سارا عرب، اس لئے اور بھی جوش پیدا ہوا اور جلسے کر کے مشورا کرکے ان حضرات کو ناپیدکرنے کی کوشش ہوتی تھی اور طرح طرح کی تدبیریں کی جاتی تھیں تا ہم اتنا ضرور ہوا کہ مسلمان مکہ کی مسجد میں نماز پڑھنے لگے ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ عمر رضی اﷲ عنہ کا اسلام لانا مسلمانوں کی فتح تھی اور ان کی ہجرت مسلمانوں کی مدد تھی اور اُن کی خلافت رحمت تھی۔ (اسدالغابہ(

۱۰۔مسلمانوں کی حبشہ کی ہجرت اورشعب ابی طالب میں قید ہونا

مسلمانوں کو اور انکے سردار فخردوعالم ﷺ کو جب کفار سے تکلیف پہنچتی ہی رہیں اور آئے دن اُن میں بجائے کمی کے اضافہ ہی ہوتا رہا تو حضورﷺ نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس کی اجازت فرمادی کہ وہ یہاں سے کسی دوسری جگہ چلے جائیں تو بہت سے حضرات نے حبشہ کی ہجرت فرمائی۔ حبشہ کی ہجرت فرمائی ۔ حبشہ کے بادشاہ اگرچہ نصرانی تھے اور اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے مگر انکے رحمدل اور منصف مزاج ہونے کی شہرت تھی۔ چنانچہ نبوت کے پانچویں برس رجب کے مہینہ میں پہلی جماعت کے گیارہ یا بارہ مرد اور چار یا پانچ عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ مکہ والوں نے انکا پیچھا بھی کیا کہ یہ نہ جاسکیں مگر یہ لوگ ہاتھ نہ آئے ۔ وہاں پہنچ کر انکو یہ خبر ملی کہ مکہ والے سب مسلمان ہوگئے اور اسلام کو غلبہ ہو گیا۔ اس خبر سے یہ حضرات بہت خوش ہوئے اور اپنے وطن واپس آگئے لیکن مکہ مکرمہ کے قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط تھی اور مکہ والے اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ دشمنی اور تکلیفیں پہنچانے میں مصروف ہیں تو بڑی دقت ہوئی ۔ ان میں سے بعض حضرات وہیں سے واپس ہو گئے اور بعض کسی کی پناہ لے کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ یہ حبشہ کی پہلی ہجرت کہلاتی ہے اسکے بعد ایک بڑی جماعت نے جو تراسی مرد اور اٹھارہ عورتیں بتلائی جاتی ہیں ۔ متفرق طور پر ہجرت کی اور یہ حبشہ کی دوسری ہجرت کہلاتی ہے ۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے دونوں ہجرتیں کیں اور بعض نے ایک۔ کفار نے جب یہ دیکھا کہ یہ لوگ حبشہ میں چین کی زندگی بسر کرنے لگے تو ان کو اور بھی غصہ آیااور بہت سے تحفے تحائف دے کر نجاشی شاہ حبشہ کے پاس ایک وفد بھیجا جو بادشاہ کیلئے بھی بہت سے تحفے تحائف لے کر گیا اور اسکے خواص اور پادریوں کیلئے بھی بہت سے ہدیے لے کر گیا ۔ جاکر اول حکام اور پادریوں سے ملا اور ہدیے دیکر ان سے بادشاہ کے یہان اپنی سفارش کا وعدہ لیا اور پھر بادشاہ کی خدمت میں یہ وفدحاضر ہوا۔ اول بادشاہ کو سجدہ کیا اور پھر تحفے پیش کر کے اپنی درخواست پیش کی اور رشوت خور حکام نے تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ اے بادشاہ ہماری قوم کے چند بیوقوف لڑکے اپنے قدیمی دین کو چھوڑ کر ایک نئے دین میں داخل ہو گئے جس کو نہ ہم جانتے ہیں نہ آپ جانتے ہیں اور آپ کے ملک میں آکر رہنے لگے۔ ہم کو شرفائے مکہ نے اور ان لوگوں کے باپ ، چچا اور رشتہ داروں نے بھیجاہے کہ ان کو واپس لائیں۔ آپ ان کو ہمارے سپرد کردیں ۔ بادشاہ نے کہا کہ جن لوگوں نے میری پناہ پکڑی ہے بغیر تحقیق ان کو حوالہ نہیں کر سکتا۔ اول ان سے بلا کر تحقیق کر لوں اگر یہ سچ ہوا تو حوالہ کردوں گا۔ چنانچہ مسلمانوں کو بلایا گیا ۔ مسلمان اول بہت پریشان ہوئے کیا کریں ،مگر اللہ کے فضل نے مدد کی اور ہمت سے یہ طے کیا کہ چلنا چاہیے اور صاف بات کہنا چاہیے ۔ بادشاہ کے یہاں پہنچ کر سلام کیا۔ کسی نے اعتراض کیا کہ تم نے بادشاہ کو آداب شاہی کے موافق سجدہ نہیں کیا۔ ان لوگوں نے کہا، ہم کو ہمارے نبیﷺ نے اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد بادشاہ نے ان سے حالات دریافت کئے ۔ حضرت جعفر رضی اﷲ عنہ آگے بڑھے اور فرمایا کہ ہم لوگ جہالت میں پڑے ہوئے تھے ۔ نہ اللہ کو جانتے تھے نہ اس کے رسولوں سے واقف تھے۔ پتھروں کو پوجتے تھے ، مردار کھاتے تھے ، برے کام کرتے تھے ، رشتے ناتوں کو توڑتے تھے ، ہم میں قوی ضعیف کہ ہلاک کردیتاتھا۔ ہم اسی حال میں تھے کہ اللہ نے اپنا ایک رسول بھیجا جس کے نسب کو، اسکی سچائی کو، اس کی امانت داری کو، پرہیزگاری کو ہم خوب جانتے ہیں ۔ اس نے ہم کو ایک اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور پتھروں اور بتوں کے پوجنے سے منع فرمایا، اس نے ہم کو اچھے کام کرنے کا حکم دیا۔ برے کاموں سے منع کیا۔ اس نے ہم کو سچ بولنے کا حکم دیا۔ امانت داری کا حکم دیا۔ صلہ ر حمی کا حکم کیا۔ پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کا حکم دیا۔ نماز، روزہ، صدقہ خیرات کا حکم دیااور اچھے اخلاق تعلیم کئے ۔ زنہ بدکاری، جھوٹ بولنا،یتیم کا مال کھانا ، کسی پر تہمت لگانا اور اس قسم کے برے اعمال سے منع فرمایا۔ ہم کو قر آن پاک کی تعلیم دی، ہم اس پر ایمان لائے اور اسکے فرمان کی تعمیل کی۔ جس پر ہماری قوم ہماری دشمن ہوگئی، اور ہم کو ہر طرح ستایا۔ ہم لوگ مجبور ہو کر تمہاری پناہ میں اپنے نبی ﷺ کے ارشاد سے آئے ہیں۔ بادشاہ نے کہا جو قرآن تمہارے نبیﷺ لے کر آئے ہیں وہ کچھ مجھے سناؤ۔ حضرت جعفر رضی اﷲ عنہ نے سورۂ مریم کی اول کی آیتیں پڑھیں جس کو سن کر بادشاہ بھی رو دیااور اسکے پادری بھی جو کثرت سے موجود تھے سب کے سب اس قدر روئے کہ ڈاڑھیاں تر ہو گئیں۔ اسکے بعد بادشاہ نے کہاکہ خداکی قسم یہ کلام اور جو کلام حضرت موسیٰ ں لے کر آئے تھے ایک ہی نور سے نکلے ہیں اور ان لوگوں سے صاف انکار کر دیا کہ میں انکو تمہارے حوالہ نہیں کر سکتا۔ وہ لوگ بڑے پریشان ہوئے کہ بڑی ذلت اٹھانا پڑی، آپس میں صلاح کرکے ایک شخص کے کہا کہ کل میں ایسی تدبیر کروں گا کہ بادشاہ ان کی جڑہی کاٹ دے۔ ساتھیوں نے کہا بھی کہ ایسا نہیں چاہیے ۔ یہ لوگ اگرچہ مسلمان ہوگئے مگر پھر بھی رشتہ دار ہیں مگر اس نے نہ مانا۔ دوسرے دن پھر بادشاہ کے پاس گئے اور جاکر کہا کہ یہ لوگ حضرت عیسیٰ ں کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ، ان کو اللہ کا بیٹا نہیں مانتے۔ بادشاہ نے پھر مسلمانوں کو بلایا۔صحابہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ دوسرے دن کے بلانے سے ہ میں اور بھی زیادہ پر یشانی ہوئی، بہر حال گئے ۔ بادشاہ نے پوچھا کہ تم حضرت عیسیٰں کے بارے میں کیا کہتے ہو۔ انہوں نے کہا وہی کہتے ہیں جو ہمارے نبی ﷺ پر انکی شان میں نازل ہوا، کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ، اسکے رسول ہیں ، اس کی روح ہیں اور اس کے کلمہ ہیں جس کو خدا نے کنواری اور پاک مریم ں کی طرف ڈالا ۔ نجاشی نے کہا کہ حضرت عیسیٰ ں بھی اس کے سوا کچھ نہیں فرماتے ۔ پادری لوگ آپس میں کچھ چَخ چَخ کرنے لگے۔ نجاشی نے کہا تم جو چاہے کہو۔ اس کے بعد نجاشی نے انکے تحفے واپس کردیئے اور مسلمانوںسے کہا تم امن سے ہو، جو تمہیں ستائے اس کو تاوان دینا پڑے گا اور اس کا اعلان بھی کرادیا کہ جو شخص اُن کو ستائے گا اس کو تاوان دینا ہوگا۔ (خمیس ) اسکی وجہ سے وہاں کے مسلمانوں کا اکرام اور بھی زیادہ ہونے لگا اور اس وفد کو ذلت سے واپس آنا پڑا تو پھر کفار مکہ کا جتنا بھی غصہ جوش کرتا ظاہر ہے ۔ اسکے ساتھ ہی عمر رضی اﷲ عنہ کے اسلام لانے نے کو اور بھی جلا رکھاتھا اور ہر وقت اس وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ لوگوں کا ان سے ملنا جلنا بند ہو جائے اور اسلام کا چراغ کسی طرح بجھے ۔ اس لئے سرداران مکہ کی ایک بڑی جماعت نے آپس میں مشورہ کیاکہ اب کھلم کھلا محمد ﷺ کو قتل کر کیا جائے ، لیکن قتل کردینا بھی آسان کام نہ تھا۔ اس لئے کہ بنو ہاشم بھی بڑے جتھے اور اونچے طبقے کے لوگ شمار ہوتے تھے ۔ وہ اگرچہ اکثر مسلمان شمار ہوتے تھے۔ لیکن جو مسلمان نہیں ہوئے تھے وہ بھی حضور ﷺ کو قتل کردیا جانے پر آمادہ نہیں تھے ۔ اسلئے ان سب کفار نے مل کر ایک معاہدہ کیا کہ سارے بنو ہاشم اور بنوالمطب کا بائیکاٹ کیا جاوئے۔ نہ انکو کوئی شخص اپنے پاس بیٹھنے دے نہ ان سے ہوئی خریدو فروخت کرے نہ بات چیت کرے ، نہ انکے گھر جائے ، نہ انکے گھرآئے، نہ ان کو اپنے گھر میں آنے دے۔ اور اس وقت تک صلح نہ کی جائے جب تک کہ وہ حضورﷺ کو قتل کیلئے حوالہ نہ کر دیں ۔ یہ معاہدہ زبانی ہی گفتگو پر ختم نہیں ہوا،بلکہ یکم محرم ۷ ؁ نبوی کو ایک معاہدہ تحریری لکھ کر بیت اللہ میں لٹکایا گیا ، تا کہ اسکا احترام کرے اور اس کو پورا کرنے کی کوشش کرے ، اور اس معاہدہ کی وجہ سے تین برس تک یہ سب حضرات دوپہاڑوں کے درمیان ایک گھاتی میں بظر بند رہے کہ نہ کوئی ان سے مل سکتا تھا نہ یہ کسی سے مل سکتے تھے ۔ نہ مکہ کے کسی آدمی سے کوئی چیز خرید سکتے تھے، نہ باہر آنے والے کسی تاجر سے مل سکتے تھے۔ اگر کوئی شخص باہر نکلتا تو پیٹا جاتا او ر کسی ضرورت کا اظہار کرتا تو صاف جواب پاتا۔ معمولی سا سامان غلہ وغیرہ جو ان لوگوں کے پاس تھا وہ کہاں تک کام دیتا۔ آخر فاقوں پر فاقے گذرنے لگے اوع عورتیں اور بچے بھوک سے بے تاب ہو کر روتے اور چلاتے اور انکے اعزہ کو اپنی بھوک اور تکالیف سے زیادہ ان بچوں کی تکالیف سے زیادہ ان بچون کی تکالیف ستاتیں۔ آخر تین برس کے بعد اللہ کے فضل سے وہ صحیفہ دیمک کی نذر ہوا، اور ان حضرات کی یہ مصیبت دور ہوئی۔ تین برس لا زمانہ ایسے سخت بائیکاٹ اور نظربندی میں گذرا اورایسی حالت میں ان حضرات پر کیا کیا مشقتیں گذری ہوں گی وہ ظاہر ہے لیکن اسکے باوجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نہایت ثابت قدمی کیساتھ اپنے دین پر جمے رہے بلکہ اسکی اشاعت فرماتے رہے ۔

ف: یہ تکالیف اور مشقتیں ان لوگوں نے اٹھائی ہیں جن کے آج ہم نام لیوا کہلاتے ہیں اور اپنے کو ان کا متبع بتلاتے ہیں اور سمجھتے ہیں ہم لوگ ترقی کے باب میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم جیسی ترقیوں کے خواب دیکھتے ہیں لیکن کسی وقت ذرا غور کرکے یہ بھی سوچنا چائیے کہ ان حضرات نے قربانیاں کتنی فرمائیں اور ہم نے دین کی خاطر اسلا م کی خاطر، مذہب کی خاطر کیا ۔ کامیابی ہمیشہ کوشش اور سعی کے مناسب ہوتی ہے ۔ ہم لوگ چاہتے ہیں کہ عیش و آرام ،بددینی اور دنیا طلبی میں کافروں کے دوش بدوش چلیں اور اسلامی ترقی ہمارے ساتھ ہوں یہ کیسے ہوسکتا ہے ۔

ترسم نرسی بکعبہ اے اَعرابی

کیں راہ کہ تو میروی بترکستان است

ترجمہ۔ مجھے خوف ہے اوبدوی کہ تو کعبہ نہیں پہنچ سکتا، اس لئے کہ یہ راستہ کعبہ کی دوسری جانب ترکستان کی طرف جاتا ہے ۔

 



 

Other Menu

Latest Articles

Who's Online

We have 249 guests online

Statistics

Members : 6
Content : 1066
Content View Hits : 4251229

Get Latest Feed

Enter you email address to get in touch with latest updates

یہاں اپنا ای میل ایڈریس رجسٹر کروائیں اور ویب سائٹ کی تازہ اپ ڈیٹس سے باخبر رہیں

Most Read Articles

  1. مولانا اسماعیل محمدی
  2. فضائل اعمال
  3. مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی
  4. نفس کے پجاری - غیر مقلدین
  5. جنت البقیع میں مدفون علمائے دیوبند
  6. طاہر القادری رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔!! ضرور دیکھیں
  7. شیعہ مذہب کی ابتداء ۔۔۔ اور ان کا فرقوں میں بٹنا
  8. انٹرنیٹ کی کارستانیاں (ایک بدنصیب لڑکی کی داستان
  9. انگریز کا الاٹ کردہ لقب اہلحدیث واپس کرتے ہیں
  10. Mufti Manzoor Mengal
  11. فتنہ ڈاکٹر ذاکر نائیک
  12. مناظرہ کوہاٹ کی ویڈیوز
  13. جوشخص شیعہ کے کفر میں توقف کرے تو وہ بھی ان جیسا کافر ہے۔
  14. ترک رفع الیدین والی حدیث کو کن کن محدثین نے صحیح قرار
  15. مولانا حق نواز جھنگوی ۔ آڈیو بیانات
  16. مولانا ضیا ء الرحمن فاروقی ۔ آڈیو بیانات
  17. Shaikh Saad Al Ghamedi
  18. مناظرہ ترک رفع الیدین - محمد امین اوکاڑوی
  19. مصنف ابن ابی شیبہ کی ناف کےنیچےہاتھ باندھنےوالی روایت کی تحقیق
  20. شیعوں کا عقیدہ ان کی کتابوں سے
  21. بیکاٹ فیس بک
  22. Ameer Shariat Syed Attaullah Shah Bukhari
  23. تاریخی حولات جات۔ شیعہ کافر
  24. درس حدیث دارالعلوم دیوبند
  25. خاتم الانبیاء کا طریقہ نماز
  26. Maulana Ilyas Ghuman - Audio bayanat
  27. غیر مقلدین کے سوالوں کے جوابات
  28. ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
  29. بریلویت قصور۔ مولانا الیاس گھمن
  30. اهل حدیث کے چهہ نمبر
  31. سلفی کون؟ حنفی یا غیرمقلد؟
  32. ALLAH EXISTS WITHOUT A PLACE
  33. سنی مسلمان شیعہ کی تکفیر کیوں کرتے ہیں؟
  34. The Blindest Following
  35. میں کیوں حنفی ہوا؟

Share you Idea

تمام حضرات سے گذارش ہے کہ سائیٹ کو ایکسپلور کرتے ہوئے اگر آپ کو کوئی خرابی نظر آئے یا اپ سائیٹ کی بہتری کیلئے کوئی مشورہ دینا چاہیں تو کنٹیکٹ اس کے پیج پر جا کر ہمیں ضرور مطلع فرمائیں

 

Ownislam:

This Website is dedicated to our beloved Prophet Muhammad (PBUH). In this website you will get the correct information regarding Islam in the light Holy Quran and the Authentic Hadith. It's time to understand and practice Islam properly so that we can spread the message and teachings of deen. Our zeal is to bring people back to real Jama'at of our Nabi Muhammad PBUH and Sahabas R.A.

We Would Like You To

Join .... Invite ... Share