1. Skip to Menu
  2. Skip to Content
  3. Skip to Footer>

PDF Print E-mail

User Rating: / 0
PoorBest 

 

دیوبندی بر یلوی اختلاف

مناظر اسلام تر جمانِ  اہل سنت وکیل احناف

حضرت مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی

(خطبات  صفدر،جلددوم)

الحمد للہ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ امابعد

فاعوذباللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم

انما یخشیٰ اللہ من عبادہ العلماءان اللہ عزیز غفور وقال اللہ تعالیٰ فی مقام آخر قل انما انا بشر مثلکم یوحیٰ الی انما الھکم الہ واحد وقال اللہ تبارک وتعالی فی مقام آخر یحرفون الکلم عن مواضعہ ونسوا حظا مما ذکروا بہ صدق اللہ العظیم وصدق رسولہ النبی الکریم ونحن علی ذلک من الشاہدین والشاکرین والحمد للہ رب العالمین

ماقبل میں حقانیت اسلام اور حقانیت اہلسنت والجماعت کو بیان کیا گیا اور ان کی چار چار دلیلیں بھی بیان کی گئی تھیں آج کے سبق میں بریلوی دیوبندی اختلاف کے بارے میں بات ہوگی یہاں پر دوچیزیں ہیں  (۱) اختلاف  (۲) مخالفت

اختلاف اور مخالفت میں فرق

اختلاف میں دونوں فریقوں کی نظر دلیل پر ہوتی ہے اور مخالفت میں دونوں فریقوں کی نظر دوسرے کو بدنام کر نے پر ہوتی ہے دیوبندی بریلوی اختلاف حقیقةً اختلاف نہیں ہے بلکہ مخالفت ہے ۔ایک ہو تا ہے الزام اور ایک ہو تا ہے التزام ۔

الزام کی تعریف

الزام تو یہ ہے کہ فریق مخالف کو ئی بات مانتا نہیں اور فریق اس کے ذمہ بات لگاتا جاتا ہے کہ آپ یوں کہتے ہیں یوں کہتے ہیں یوں کہتے ہیں وغیرہ وغیر ہ ۔

التزام کی تعریف

التزام یہ ہے کہ آپ خود یہ کہیں کہ میراعقیدہ یہ ہے ۔باقی جتنے اختلافات ہیں ،مثلاً یہ ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ رافضیوں سے ہمارا یہ اختلاف ہے کہ وہ ابو بکر صدیق ؓ کو خلیفہ نہیں مانتے یا مومن نہیں مانتے وہ بھی کہتے ہیں کہ ہاں ہم خلیفہ نہیں مانتے، تو گویا ہم نے ان پر الزام نہیں لگایا بلکہ وہ خود بھی اس بات کا التزام کر تے ہیں کہ واقعی ہم ان کو خلیفہ نہیں مانتے۔ ہم کہتے ہیں کہ غیر مقلید ائمہ کی تقلید نہیں کر تے تو یہ الزام نہیں ہے بلکہ وہ خود التزام کر تے ہیں کہ ہاں ہم تقلید کو حرام اور شرک سمجھتے ہیں ۔لیکن دیوبندی بریلوی اختلاف آج سے سوسال (100) پہلے بھی الزام ہی تھا اور آج بھی الزام ہی ہے ۔

کسی دیوبندی عالم نے تو کجا کسی ان پڑھ دیوبندی نے بھی اس کا التزام نہیں کیا کہ بریلوی جو باتیں ہمارے بارے میں کہتے ہیں واقعی وہ ہمارا عقیدہ بھی ہے۔ کہ ہاں ہم مانتے ہیں کہ معاذاللہ خداجھوٹ بولتا ہے یا ہم مانتے ہیں کہ ہم گستاخ رسو ل ہیں (معاذاللہ )۔ تو اس لئے باقی اختلافات اور یہ اختلاف اپنی نوعیت میں الگ قسم کے اختلافات ہیں ۔وہاں اختلاف ہے اور یہاں مخالفت ۔

مخالفت میں صرف ایک دوسرے کو بدنام کر نا مقصود ہوتا ہے ۔جیسا کہ جن دنوں میں بھٹواور مفتی صاحب آپس میں مقابلہ تھا الیکشن میں تو بہتر (۲ ۷)گھنٹے پہلے کمپیئر بندکردی جاتی ہے صبح الیکشن ہو نا تھا شام کو ایک اخبار تقسیم ہو گیا کہ مفتی صاحب کا بیان ہے کہ اگر میری حکومت آگئی تو جو عورت گھر سے سر باہر نکالے گی اسے گولی مار دی جائے گی جتنے مزارات بزرگوں کے بنے ہوئے ہیں گرادیئے جائیں گے۔ اب یہ دونوں باتیں اشتعال انگیز تھیں جناب سب عورتیں تھی پریشان کہ اگر مولویوں کی حکومت آگئی تو ہماری خیر ہمیں گولی ماردیں گے اس لئے کوشش کرو کہ ان کی حکومت نہ آئے اور ادھر بر یلویوں کو بھی موقع مل گیا کہ دیکھوجی اور کوئی کام نہیں کریں گے بزرگوں کے مزارات کو گرائیں گے تو یہاں پر مقصود صرف بدنام کر نا تھا کیونکہ مفتی صاحب نے کچھ بھی نہیں کہا ۔

لہذا پہلے یہ بات ذہن میں رکھی جا ئے کہ الزام اور التزام میں فرق ہے ۔جو الزامات احمد رضاخان بر یلوی نے لگائے تھے علماءدیوبند پر وہ اس وقت بھی الزام تھے آج بھی الزام ہیں کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ ہم اس کا التزام بھی کرتے ہیں کہ واقعةً ہمارا یہ عقیدہ بھی ہے ۔

اب وہ کہتے کیا ہیں کہ آپ کی کتابوں میں یہ لکھا ہو ا ہے نا؟ ہم کہتے ہیں کہ جو کتابوں میں لکھا ہے اگر کوئی اس کا غلط مطلب نکالے تو ہمارے پاس تو اس کو کوئی علاج نہیں ۔دیکھویہ قرآن پاک ہے اللہ کی کتاب وکلام ہے اگر کوئی اس کی عبارت کا غلط مطلب نکالے تو اس کا علاج تو کچھ بھی نہیں ہے ۔

حکایت

ایک عورت ایک مفتی صاحب کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرا بیٹا مجھے کچھ نہیں دیتا بس بیوی کی بات ہی مانتا ہے مفتی صاحب نے اس کے بیٹے کو بلایا تو ماں کا حق ادا نہیں کر تا کبھی قرآن پڑھا ہے قرآن میں تو صاف لکھا ہے وماکسب کہ سب کچھ ماں کا ہوتا ہے اب دیکھئے یہ قرآن کی اس آیت کا کوئی معنی نہیں لیکن قرآن پاک کے ذمہ ایسا معنی لگا دیا؟

ایک یزیدی کہتا تھا کہ قرآن میں آتا ہے ویزید ھم من فضلہ ،کہ یزید تو اللہ کا بہت بڑا فضل ہے ۔ایک نعیم نامی آدمی تھا اس نے دعویٰ نبوت کر دیا اور کہتا تھا کہ "ثم لتسئلن یومنذ عن النعیم "کہ قیامت میں سب سے پہلے تم سے ضرور بالضرور پوچھا جائے گا کہ نعیم پر ایمان لائے تھے یا نہیں ۔

واقعہ

حضرت مولانا محمد امین صاحب فرماتے ہیں کہ میں شداد کوٹ کی ایک مسجد میں بیٹھا ہو اتھا کہ جماعت المفسدین والے آگئے کہ ہمارا نام تو قرآن میں آیا ہے میں نے پوچھا کہاں، کہنے لگے ہو سمکم المسلمین ۔میں نے کہا میرا نام بھی قرآن میں آیا ہے "انی لکم رسول امین" کہنے لگے کہ اس "امین "سے تو مراد ہے "میں "نے کہا کہ اس مسلمین سے تم مراد ہو ۔

لطیفہ

ایک پنڈت کے دوبڑے امیرآدمی مخالف ہو گئے۔ کہ اس کو یہاں سے نکالنا ہے ۔اب نکالنے کا بہانا کیا ہو کہ پنڈت صاحب کو کچھ آتا تو ہے نہیں مناظرہ کرلوچنانچہ مناظرہ طے ہو گیا ایک بالکل اُجڈ ان پڑھ کو لے آئے مناظرہ کے لئے اب کچھ ادھر بیٹھ گئے کچھ ادھر بیٹھ گئے پنڈت صاحب بھی حیران کہ نہ تو موضوع کا کوئی پتہ کہ کس بات پر مناطرہ ہوگا بہرحال بیٹھ گئے تو پنڈت نے کہا اُچرواس کا معنی ہے کہ بات شروع کر و وہ کہتا اُچر مچروُ کُچرو تو پنڈت حیران کہ یہ کیابات ہوئی میں نے کہا کہ اُچر و یہ کہتا ہے اُچروُ مُچروُ کُچروتو پنڈت نے کہا اَیِکی اس نے کہا اَیِکی مِیکِ یکِ یکِی بس جنا ب نعر ہ شروع ہو گئے ایک ایک بات کے تین تین جواب دیئے ہیں اس کو تو کچھ آتا نہیں ۔

لطیفہ

امیر خسر رحمة اللہ علیہ خوا جہ نظا م الدین اولیا ءکے خلفا ئے میں سے ہیں اور بہت بڑ ے بزر گ تھے اورشا عر بھی تھے اس کے سا تھ سا تھ مز احیہ بھی تھے۔ ایک دفعہ کہیں دوپہر کو جا رہے تھے اس زما نہ میں گاؤں کے درمیا ن میں کنوا ں ہوتا تھا مر د توسا رے کھیتو ں میں ہوتے تھے دن کو بچیاں کنو یں سے پا نی لاتی تھیں انہیں پیاس لگی یہ پا نی پینے کے کے لیے کنویں کی طرف گئے ۔بچیاں پا نی بھر رہی تھیں ایک بچی کہیں پہنچا نتی ہو گی ، ان کو اس بچی نے نے دوسریوں سے کہا یہ بڑے بز رگ ہیں اور پا نی پینے آ رہے ہیں ان کو پا نی نہیں پلا نا پہلے کوئی شرط رکھنی ہے کہ ہمیں کو ئی شعرسنا ئیں۔ یہ وہاں پہنچے اور کہا بیٹی پانی پینا ہے پا نی پلاؤپا نی تو ہم آپ کو پلا تیں ہیں لیکن ہمار ے چار لفظ ہیں ان کا ایک شعر بناؤ کہا کون کو ن سے لفظ ہیں اب انہو ں نے کو نسے پہلے سو چ رکھتے تھے جو منہ آ ئے کہہ دئے ایک کہا کتا دوسری نے کہا کھیر تیسری نے کہا چر خہ چو تھی کہنے لگی ڈھول حضرت نے فر ما یا ۔

کھیر پکائی جتن سے اور چرخہ دیا جلا

آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا

لا پا نی لا اب انہو ں نے پا نی پلا دیا۔ پھر انہوں نے کہا حضرت یہ شعر تو ہم یا د رکھیں گی کوئی اور شعر بھی بنا دیں۔ آپ نے فرما یا کو نسے لفظ ہیں ایک کہنے لگی کسا ن دوسری کہنے لگی آسما ن تیسر ی کہنے لگی گیہو ں چو تھی کہنے لگی سیڑ ھی آپ نے فرما یا

کسان نے جب گہیوں کھایا

سیڑھی لے آسمان کو ڈھایا

یعنی جب انسا ن کا پیٹ بھر جا تا ہے تو اپنے کی نافر ما نی شروع کر دیتا ہے ۔

واقعہ

آپ کے واقعا ت میں لکھا ۔ایک گا ں کے بڑ ے بخیل تھے کو ئی مسا فر جب ان کے گاؤں میں آ ئے تو مسجد میں رہنے کی اجا ز ت نہیں تھی تما شا یہ بنا ہو تھا کہ کہ ہمارے گاؤں کے امام مسجد صاحب اس سے سوال کر یں گے اگر اس اس کا جوا ب آ گیا تو معلو م ہو گا کہ یہ پڑ ھا لکھا ہے اسے کھا نا بھی دیا جائے گا اور مسجد میں ٹھہر ے کی اجاز ت بھی ہو گئی اور اگر سوال کا جواب نہ دے سکا تو معلو م ہو ا یہ ان پڑھ ہے نہ اس کے کھا نا ہے اور نہ ہی مسجد میں ٹھہرنے کی اجا زت کیو نکہ مسجد جو ہے وہ پڑھے لکھے لو گو ں کی جگہ ہے ان پڑ ھو ں کے لیے نہیں ۔

اب اگر کوئی آتا پو چھتا کہ کیا سوال ہے سوا ل یہ تھا کہ چھا ب چھڑپ چھڑ پا بڑ چھو ں اس کا مطلب کیا ہے سا رے حیرا ن کہ اس کا مطلب کیاہے۔ امر خسر د کو کسی نے بتلا یا کہ ایک امام صا حب ایسے سوال کر تا ہے آپ وہا ں پہنچ گئے لو گوں نے کہا کہ یہاں ان پڑ ھ نہیں رہ سکتا پڑھا لکھارہ سکتا ہے ہمارے امام صاحب پہلے سوال کر یں گے پھر رہنے کی اجاز ت ہو گی ۔آپ نے فرما یا بلاؤ امام صا حب کو آگئے بھئی کیا سوا ل ہے کہنے سوال یہ ہے "چھا پ چھڑپ چھڑ پا بڑٹ چھو ں" اس کا کیا مطلب ہے ۔آپ نے فرمایا کہ یہ کتنے سال سے یہا ں امام ہے کہنے لگے کہ بیس سال سے فرمایا تمہار ی کو ئی نما ز نہیں ہو ئی۔ یہ تو ان پڑ ھ ہے اسے تو سوال ہی نہیں کر نا آتا اس سے پہلے کیا ہے سناؤ؟۔اب پہلے کیا سنا ئے اس نے ایک بہا نہ بنا رکھا تھا فر ما یا جلدی سناؤ بیس سا ل سے لوگوں کی نماز یں خرا ب کی ہیں سا رے دانے واپس کر نے پڑ یں گے اب ہر جگہ پر کچھ چا ر پا نچ آدمی تو مو لو ی صا حب کے خلاف ہو تے ہی ہیں کہنے لگے کہ پھر اس سے پہلے کیا ہے آپ نے فرما ئا جب یہ کہے گا مجھے نہیں آتا پھر بتلاؤں گا وہ لا جواب ہو گیا پھر آپ نے فرما یا پو را یوں ہے ۔

دھان دھما دھمک دھوں

پھر چھاج بچھوڑا چھڑ بڑچھوں

پھر ہانڈی ڈوئی کھڑ بڑکھوں

اس کے بعد جب اس میں میٹھا ڈال کر کھاتے ہیں اس وقت جو آ واز آ تی ہے کہتے ہیں

چھا پ چھڑ پ ب چھوں

اب انہوں نے امام صاحب سے کہا نکل جا یہاں سے ہماری بیس سا ل کی نماز خراب کی ہیں ۔

اسی طرح بر یلوی حضرات کا حا ل ہے ۔کہ یہ جو علما ءدیو بند پر الز ما ت لگا تے ہیں ان کے فر شتوں کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ انہوں نے ہما رے بارے میں کیا کہہ دینا ہے کسی کی عبارت کا مطلب بگا ڑ دینا یہ کو ئی کما ل نہیں ہوتا اس کی بھی دو مثا لیں دیا کرتا ہوں، بصورت واقعہ

واقعہ نمبر ایک

لکھنو ں انڈ یا میں بہت بڑا شہر ہے۔ جس طرح دہلی ہے اس طر ح لکھنو انڈ یا میں بہت بڑ ا شہر ہے ۔جس طرح دہلی ہے اس طرح لکھنویہ دو نوں شہر اردو زبا ن کے گھر ہیں کے بڑے ما ہر ین یا دہلی میں ہوئے ہیں یا لکھنومیں۔ تو وہاں لکھنو ں میں مشا عر ہ رکھا گیا اب شاعراپنی اپنی نظمیں اور اشعا ر لکھ کر لے آئے مو ضوع تھا مقا م حسین رضی اللہ عنہ ۔

اب ہر شہر میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بغیر بلا ئے آ جا تے ہیں کہ ایک آ دھی نعت پڑ ھ دیں گے کچھ روپے اکھٹے ہو جائیں کھا نا مل جائے گز ارا ہو جائےگا ۔اب جو ایسے تھے وہ سا رے اکھٹے ہوئے کہ اگر لکھنوں میں مشا عر ہ ہو نے لگے اور بڑ ے بڑ ے شا عر آ نے لگے پھر ہمیں کو ن جلسوں میں بلا ئے گا اس لئے ہمارے پیٹ کا مسئلہ بن رہا ہے جس کی فکر کر نی چا ہیے ۔اب کیا کر نا چا ہیے ایک نے کہا کہ آ پ مجھے اپنا اعلی حضرت ما ن لیں جہاں میں شو ر مچاؤں آپ کو سمجھ آ ئے یا نہ آئے آپ نے شور مچا دینا ہے انہوں نے کہا ٹھیک ہے سا زش مکمل ہو گئی اب سارے مجھے میں کوئی ادھر کو ئی ادھر پھیل کر بیٹھ گئے اوراعلی حضرت اسٹیج کے قر یب بیٹھ گئے۔

پہلا شاعر کھڑا ہو پہلی نظم کا پہلا مصرعہ یہ تھا ”کا ن نبی کا گو ہر یکتا حسین ہے “ دو تین دفعہ اس نے مصرعہ کو دہر یا اعلی حضرت کھڑے ہو گئے ۔کا فر بے ایما ن ہمارے نبی کا نا کہتا ہے ۔اب جو ادھر ادھر بیٹھے تھے سارے کھڑے ہوئے گئے۔ کہ کا فر کافر کافر کافر اللہ کے نبی کو کا نا کہاہے ۔کا فر کافر کا شور مچ گیا شا عر بڑا پر یشا ن یا اللہ یہ دیہا ت ہے تو ہے نہیں یہ تو شہر لکھنو ان کو کا ن کا مطلب نہیں آتا جس سے ہیر ے مو تی جو اہر ات نکلتے ہیں میرا مطلب یہ ہے کہ نبی کی کا ن کا ایک موتی حسین ہے ۔انہوں نے کیا مطلب نکا ل لیا ہے اب وہ گھبرا گیا اور سو چا کہ موتی سیپ سمند ر سے بھی نکلتے ہیں۔

اب اس نے مصرعہ تبد یل کر دیا” بحر نبی کا گو ہر یکتا حسین ہے“ ہے اتنے میں اعلی حضرت اور اس کی پا ر ٹی اسٹیج پر پہنچ گئی کہ یہ بڑ کا فر ہے ۔پہلے ہمارے نبی کوکا نا کہا پھر اس نے بہرا کہا ۔بس جنا ب اس کی پٹا ئی شروع کر دی اب سارے شاعر سمجھا ئیں کہ اس کا مطلب تو اور ہے ۔کہنے لگ نہیں تمہیں کوئی گا لی دے تو پتہ چلے اللہ کے نبی کو گالی دی ہے تمہا رے با پ تمہار ے استاد کو گا لی دے تو پتہ چلے اب تم تا ولیں کرتے ہو وہ نبی کو گا لیا ں دیتا ہے تم تا ولیں کر تے ہو ۔اب اندا زہ لگائیں کہ وہ سب پر یشا ن اور اعلی حضرت اور اس کی پا رٹی آج تک کہہ رہی ہے کہ دو کہ وہ کا فر کافر کافر ۔

واقعہ نمبر ۲

جب خیر لمدا ر س کا پہلا جلسہ ہواپا کستا ن بننے کے بعد اشتہا ر چھپا اور اس میں لکھا تھا کہ مستورات ( عورتوں ) کے لیے پر دے کا انتظا م ہوگا ۔ اب جلسہ کے دنوں میں تا نگہ پر اعلا نات ہورہے ہیں کہ آج فلا ں مولو ی صا حب کا بیا ن ہوگا جس طرح کہ اعلا نات کئے جاتے ہیں ۔اب آگے آگے خیر المدارس والوں کا تا نگہ ہے اور پیچھے پیچھے بر یلوں کا تا نگہ اعلا ن کر رہا ہے کہ "اعلا ن سن رہو کہ اشتہار پڑ ھا ہے اس میں لکھا ہے کہ مستو ....رات کے لیے خا ص انتظا م ہوگا اور دیو بند یوں کو چند ہ دو یہ لکھا ہے "کہ مست اور شرا بیوں کے لیے خا ص انتظا م ہوگا رات کے وقت اب دیکھو کتنا غلط مطلب نکا لا اشتہار لکھنے والو ں کے فر شتوں کو بھی علم نہیں ۔

بر یلو ی دیو بند ی اختلاف کی اصل وجہ

جب انگر یز اس میں آیا،اس نے حکومت حنفیوں سے چھینی ہے حنفی یہاں ہز ار سال سے زیا دہ حکومت کر تے رہے ہیں ۔نظا م اسلا می کی سب سے بڑ ی کتاب فتا ویٰ عالمگیر ی یہیں مرتب ہو ئی،دھو کہ بازو ں اور غدار وں کی وجہ سے وہ کا میا ب تو ہو گیا ۔لیکن ۷ ۵ ۸ ۱ ءکی جنگ آ زادی میں علما ءنے جوان کو زخم لگائے آج تک وہ انہیں بھو لے نہیں۔ اب علما ءاور مجا ہد ین نے سو چا کہ وہ غد اروں کی وجہ سے کا میا ب تو ہو گیا اب جوتھوڑے سے مجا ید ین بچے ہیں اگر میدا ن میں جا ئیں گے تو ختم ہو جائیں گے ۔اب ضرورت ہے آ دمی تیا ر کرنے کی لہذا کوئی مدرسہ بنا یا جائے چنا نچہ درالعلو م دیوبند کی بنیا د رکھ دی گئی ۔جس طرح انسان عنا صر اربعہ سے مر کب ہے آگ پا نی مٹی ہوا سی طرح دیو بند یت بھی چا ر عنا صر سے مر کب ہے ۔

۱- حدیث پڑ ھنے کا طر یقہ شا ہ والی اللہ والا کہ اور حدیث اور فقہ میں تطبیق بیا ن کر نی ہے ۔

۲- تصوف حضرت مجد د الف ثا نی ولا جو بد عا ت سے پا ک ہو ،

۳- فقہ امام ابو حنفیہ کی

۴- جذ بہ جہاد شا ہ اسما عیل شہید والا ۔

ان چار وں چیز وں کا نا م دیو بند یت ہے تاکہ ان چاروں چیزو ں کے لیے جیالے تیا ر کئے جا ئیں ،

لیکن انگر یز بے خبرتو نہیں تھا۔ تو انگر یز نے جہاد کے خلاف مستقل ایک نبی پیدا کیا مرزا غلا م احمد قا دیا نی ۔تا کہ جہا د کے خلاف کا م کرے ۔ایک جماعت ہو تی ہے جن کو مستشر قین کہتے ہیں پڑھتے وہ اسلامیا ت ہیں لیکن ہو تے یہودی ہیں ۔سارے مستشر قین سے پوچھا گیا کہ کیا کوئی زما نہ ایسا آئے گا اسلا م میں جب جہاد ختم ہو جائے تو انہوں نے کہا ہا ں بخا ری شریف میں ہے کہ جب عیسی علیہ السلام آئیں گے وہ جہا د کرینگے وہ جز یہ نہیں لیں گے یا اسلا م یا قتل سارے کا فر ما رے جائینگے ۔تو جہاد کا سبب ہی ختم ہو جائے اس کو لیکر انہوں نے کہا کہ اب کسی کو مسیح بنا نا چاہیے چنا نچہ مرزا غلا م احمد قا دیا نی سے انہوں نے کہا کہ تو مسیح ہو نے کا دعو یٰ کر چنا نچہ وہ کہتا ہے ،

چھوڑ دو جہاد کا دوستو خیال

دین میں حرام ہے جنگ وقتال

لوگوں کو بتاؤ یہ وقت مسیح ہے

جنگ اور جہاد اب حرام اور قبیح ہے

اس نے جہاد کے خلاف جنتی کتابیں لکھی ہیں وہ خو د کہتا ہے کہ اگر ان کو جمع کیا جائے تو پچا س الما ریا ں بھر سکتی ہیں ۔لیکن علما ءدیو بند نے عین موقع پر اس کے خلاف فتویٰ کفر دے دیا۔ سب سے پہلے علما ءلد ھیا نہ نے کفر کا فتویٰ دیا پھر دیو بند سے کفر کا فتویٰ آیا ۔

مرزا قا دیا نی بڑا پریشا ن ہو گیا ، وہ لد ھیا نہ سے بھا گا اور لا ہور پہنچا حکیم نور دین کے پاس جو بعد میں اس کا خلیفہ بنا۔ اس سے آکر مشور ہ کیا کہ حنفیو ں نے مجھے زند ہ درگود کر دیا ہے کیو نکہ میرے کفر پر فتویٰ دے دیاہے اب لوگ کا فر کافر کہہ کر میرے پیچھے پڑ گئے ہیں جتنی میں نے جہاد کے خلاف کتا بیں لکھی ہیں ان کوکوئی ہاتھ نہیں لگا تا کہ یہ کا فروں کی کتابیں ہیں سارا کام بگڑگیا ۔حکیم نور الدین نے کہا کہ اس کا علا ج تو ہمارے پاس نہیں ہے اس کا حل یہ ہے کہ آ پ آ ئند ہ کبھی حنفیو ں سے مناظر ہ نہ کریں آپ مناظر ہ اہلحدیثو ں سے کریں جو آپ کو مسلما ن سمجھتے ہیں کیو نکہ مقصد تو شہر ت حا صل کر نا ہے ۔

چنا نچہ لد ھیا نہ میں منا ظرہ ہو ناتھا حیا ت و وفا ت مسیح پر ۔مو لا نا محمد صاحب لد ھیا نو ی مو لا نا عبدالقا در لدھیانوی انہوں نے فتویٰ دے دیا کہ مرزا کا فر ہے منا ظر ہ ہوگا لیکن مرزا کے کفر واسلا م پر مناظر ہ ہوگا ۔یہ وہاں سے بھا گ آیا۔ چنا نچہ پھر تین ما ہ بعد غیر مقلد و ں نے لد ھیا نہ میں مناظرہ کیا حیات و وفات مسیح پر وہ چھپا ہو اہے مبا حثہ لد ھیا نہ کے نا م سے اس کے چار ما ہ بعد دہلی میں اسی مسئلہ پر مناظرہ کیا ۔مبا حثہ دہلی بھی چھپا ہوا ہے مرزا کا مقصد پورا ہو گیا اس کا مقصد تھا شہر ت حاصل کرنا لیکن جو طریقہ حنفیوں نے اختیار کیا تھا وہی رہتا تو مرز ا خو د اپنی موت مر جاتا اس لئے علما ءدیو بند اس پر کفر کا فتویٰ دے دیا ۔انگر یز کو اس پر بڑ ا دکھ تھا کہ کفر کا فتویٰ تو بڑی پریشا ن کن چیز ہے اب اس کی طرف کو ئی دیکھتا نہیں لہذا ان پریعنی علماءدیو بند پر بھی کفر کا فتویٰ لگا یا جائے جو مرازائیوں کا کا فر کہہ رہے ہیں چنا نچہ اس کے اعلی حضرت کی خدمات حاصل کی گئیں ۔چنا نچہ ۰ ۲ ۳ ۱ ءمیں دیو بند سے فتویٰ شا ئع کر دیا گیا۔ احمد رضا خا ن نے اس کا نا م تھا۔ متفقہ فتویٰ کہ مرزا کافر ہے۔

پھر ۲ ۲ ۹ ۱ ءمیں مو لوی احمد رضا خا ن نے ایک فتویٰ لکھا جس کا نا م رکھا" المعتمد والمستند" اس میں علما ءدیو بند کو کا فر قرار دیا۔ اس کی بنیا د چا ر باتیں بنائیں ۔کہ پہلی بات یہ کہ یہ مو لا نا محمد قاسم نا نو تو ی رحمتہ اللہ علیہ یہ ختم نبوت کا انکار کرتے ہیں ختم نبوت کا منکر کافر ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ مو لا نا رشید احمد گنگو ئی رحمتہ اللہ علیہ اللہ تعالی کذ ب با لفعل کے قائل ہیں خدا بالفعل جھوٹ بو لتا ہے با لعنی نہیں اور یہ کفر ہے ۔اور تیسرایہ کہ مو لا نا خلیل احمد صا حب یہ لکھتے ہیں کہ شیطا ن کا علم معاذ اللہ حضور ﷺ سے زیا د ی ہے۔ اور چو تھی بات لکھی حضرت مولا نا اشر ف علی تھا نو ی کی معاذ اللہ جنتا علم غیب حضور ﷺ کو ہے اس سے زیا دہ بچے مجنو ن کو بھی ہے۔ اب یہ فتویٰ تو دے دیا لیکن اس کا کوئی اثر ہی نہیں ہوا کیو نکہ ہر کوئی حقیقت جا نتا تھا دو سال یہ شو ر مچا تے رہے انگر یز کی حکو مت تھی وہ بھی شو ر مچا تی رہی پھر مو لا نا ظفر علی صاحب نے لکھا ،

بریلی کے فتووں کا سستا ہے بھاؤ

یہ بکتے ہیں اب کوڑی کے تین تین

خدا نے یہ کہہ کر انہیں ڈھیل دی

املی  لھم ان کید ی  متین

اب اس کے فتویٰ کا یہاں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ چنا نچہ پھر ۴ ۲ ۳ ۱ میں مو لو ی احمد رضاخا ن انگر یز کے چر خے میں حج پر گیا کہ وہاں کے لوگو ں سے اس فتویٰ پر دستخط کر لیے جائیں پھر ان کو بد نا م کیا جاسکتا ہے ۔علما ءدیو بند نے مرزا کے خلاف فتویٰ ۰ ۲ ۳ ۱ ھ میں دیا۔ان چا ر سالوں میں جو بھی علماءحج کے جاتے رہے وہ وہاں کے علما ءسے دستخط کروا تے رہے کہ ہمارے ملک میں ایک مدعی نبوت ہے مرزا غلا م احمد قا دیا نی اس پر فتویٰ کفر دیا ہے ۔اب ان چا ر سالوں میں حر میں شریفن میں مرزا کا کفر واضح ہو گیاکہ وہ مد عی نبو ت ہے اور کافر ہے ۔

اب جب دیو بندویوں کے خلاف فتویٰ لینا تھا ،تو احمد رضا نے طر ز یہ رکھا کہ پہلے مر زا کا ذکر کیا کہ "ہمارے ہا ں ایک مرزا غلا م قا دیا نی ہے اور اس نے دعو یٰ نبوت کیا ہے وہ لوگوں کر مرتد اور کافر بنا رہا ہے "۔ علما حر مین شریفین اسلا م کے شیر ہیں ہمیں ضرورت ہے کہ یہ فتویٰ دیں تاکہ ارتداد کا راستہ بند کیا جاسکے ۔ اب ظا ہر ہے کہ اس سے تو وہ چار سا ل سے واقف ہو چکے تھے جو بھی مرزا کے خلاف فتوی ٰ پو چھتا اس کا جوا ب دیتے تھے ۔اس نے طر ز یہ رکھا کہ مرزا مد عی نبوت ہے اس کا ذکر پہلے کیا آ گے لکھا و منہم قا سم نا نوتو ی۔ کہ ان مرا زئیو ں میں سے ایک قاسم نا نو تو ی بھی ہے۔ اب عقید ہ ان کے ذمہ وہی لگا یا جو مرزا کا تھا یہ ختم نبو ت کا انکار کرتا ہے ۔ومنہم رشید احمد گنگو ھی انہیں قا دیا نیوں میں سے ایک رشید احمد گنگو ہی ہے وہ کہتا ہے کہ خدا جھوٹ بو لتا ہے۔ ومنہم خلیل احمد منہم اشر ف علی تھا نو ی۔

اب دیکھو انداز یہ تھا کہ پہلے مرزا کا ذکر پھر منہم سے ان حضرات کا ذکر کیا اب وہ اردو توجا نتے نہیں تھے عربی میں تر جمہ کیا ہوتا تھا۔ انہوں نے یہ سمجھا شا ید یہ بھی مرزا کے سا تھی ہیں چنا نچہ بعض حضرات نے فتویٰ پر دستخط کر دیے ۔سعید با بصیل نے خو اب دیکھا کو ئی کاغذ ہے اس پر کو ئی سوا ل جواب لکھا ہو ا ہے اور مکة المکر مہ کے مفتی اس پر پا خا نہ کر رہے ہیں۔ یہ گھبرا گئے کہ معلو م ہوتا ہے کہ دارالافتاءمیں کوئی غلطی ہو رہی ہے صبح کو دا ر الا فتا ءکے انچار ج سے کہا کہ جو فتویٰ آیا ہے وہ دینانہیں ہے اس اس کے بارے میں تحقیق کر یں گے کہ یہ کو ن لوگ ہیں اور کس لئے فتویٰ لیا جا رہا ہے۔

اب یہ فتویٰ لینے آیا انچا ر ج نے کہاکہ مفتی صاحب نے منع کر دیا ہے کہ پہلے تحقیق ہو گئی پھر ملے۔ اب یہ پر یشا ن ہوگیا کہ دستخط کروائے ہیں ہو ئے ہیں کام خرا ب ہورہا ہے۔ اب یہ اس تلا ش میں پھرا کہ اس کا کوئی دوست ہو چنا نچہ دوست تلا ش کیا اور رشوت وغیر ہ دی کہ آ پ جا ئیں کہ مفتی صا حب فتویٰ ما نگ رہے ہیں کہ میں نے پڑ ھنا ہے اب اس کے ذر یعہ اس نے فتو یٰ اٹھو ا یا اور بھا گ کر مد ینہ منو رہ چلا گیا ۔

مد ینہ منورہ میں ایک دو مفتیوں سے دستخط کروا ئے وہا ں یہ بات بھی پھیلی کہ ہندوستا ن سے ایک آ دمی آ یا ہے فتویٰ حا صل کر رہا ہے مولا نا خلیل احمد صا حب وہا ں پہنچے ہو ئے تھے ، کسی نے مولا نا سے کہا کہ آپ کا نا م بھی اس میں ہے مولا نا نے کہادیکھتے ہیں کیاہے۔ اس میں بہر حا ل اس کے خلاف درخو است چلی گئی عدالت میں جنہوں نے در خواست دی انہوں نے یہ بھی لکھا کہ جنکا نا م فتو یٰ میں ہے ان میں سے ایک آ د می یہاں موجود ہے عدالت بر ائے راہست اس سے پو چھ سکتی ہے۔ جب اسے پتہ چلا کہ عدالت میں طلبی ہو نیو والی ہے یہ وہ فتویٰ لے کر بھاگ آیا۔

وہاں وہا ں سے پھر اس فتویٰ کا نا م رکھا اس نے حسام الحر مین۔ ۴ ۲ ۳ ۱ھ میں اس نے فتوی ٰ لیا چنا نچہ پھر علما حر مین شریفین نے مو لا نا خلیل احمدصا حب کو کچھ سوالا ت لکھ کردیئے کہ آ پ اپنے عقا ئد اس بارے میں واضح کریں انہوں نے پھر" المھند علی المفند" لکھی اس پر علما ءدیو بند کے دستخط کرو اکر ان کے سا منے پیش کی دوسال میں یہ کاروائی مکمل ہو ئی پھر ۶ ۲ ۳ ۱ ھ میں علما ءحر مین شریفین کی تصدیقات کے سا تھ یہ کتا ب شا ئع ہوئی اس کا نا م حضرت نے تو رکھا تھا "المھند علی المفند “جب اس پر تصدیقا ت ہو گئیں پھر اس کا نا م رکھا "التصدیقا ت لدفع التلبیسا ت "ایک اور کتا ب لکھی مو لا نا حسین احمد مد نی نے" الشھاب الثا قب" ۔

ایک اورکتاب مد ینہ المنو ر ة کے مفتی نے لکھی جس کا نا م "غا یة المامو ل "جس میں انہوں نے احمد رضا کی علمی شرارتیں بھی بیا ن کیں اور مسئلہ علم غیب بھی تفصیل سے لکھا ۔علم غیب کے بارے میں جو احمد رضا خا ن نے یہا ں جو عقید ہ ظا ہر کیا وہ قطعا اہل سنت والجماعت کا عقید ہ نہیں ہے۔ یہ بے دین آ دمی معلوم ہو تا ہے یہ سا ری کا رو ائی انگر یز اس لئے کرو ارہا تھا کہ قا دیا نیو ں پر جو کفر کا فتویٰ لگا ہے اس کا بو جھ ہلکا ہو ۔

چنا نچہ پھر یہی پر وپیگنڈہ ہوتا ہے کہ جو مفتی کفر کا فتویٰ دیتے ہیں یہ حقیقة فتویٰ نہیں بلکہ جس طرح بچے لڑ نے پر ماں بہن کی ایک دوسرے کو گا لیاں دیتے ہیں اسی طرح جب مفتی آ پس میں لڑ یں پڑ یں تو کافر کافر کہنا شروع کر دیتے ہیں یہ کوئی شرعی حکم نہیں ہوتا ہے ایک قسم کی گا لی ہوتی ہے ۔ان پڑ ھو ں کی گا لیاں اور قسم کی ہوتی ہیں اور مفتیوں کی گا لیاں اور قسم کی ہو تی ہیں ۔

چنا نچہ اس کے بعد مولانا مر تضی حسن چا ند پور ی نے اس پر کئی رسا لے لکھ اور اس کو مناظر ہ کے چیلنج دیے چنا نچہ بلند شہر میں منا ظر ہ طے ہوگیا لیکن اس نے شر ط یہ لگا ئی کہ مجھ سے منا ظر ہ مر تضی حسن چا ند ر پور ی نہیں کرے گا بلکہ اشر ف علی تھا نو ی کر یں گے۔ کیوں نکہ حضرت تو کبھی اس مید ان میں نہیں اتر ے تھے ۔

چنا نچہ مو لا نا منظو ر احمد نعما نی اور مرتضی حسن چا ند پو ری حضرت کے پاس تشر یف لا ئے کہ حضرت آپ تشریف لے چلیں اور اعلا ن کر دیناکہ میر ی طر ف سے منا ظر ہ مر تضی حسن چا ند پو ریہ کریں گے۔ چنا نچہ اشتہار شا ئع ہو گئے حضرت بلند شہر تشر یف لے جارہے ہیں پہلے تو یہ تھا کہ حضرت نہیں پہنچیں گے حضرت تین چار دن پہلے پہنچ گئے پھر یہ سامنے نہیں آیا اس پر رسالہ لکھا قاصمة المظہر فی مناظر ہ بلند شہر کمر توڑ نے والا رسالہ پھر یہ کبھی سا منے نہیں آیا ۔

واقعہ بصورت منا ظر ہ

ایک دفعہ بورے والا کے علاقہ میں منا ظرہ تھا۔ مولا نا حق نوا ز جھنگو ی تشریف لے گئے مجھے بھی بلا لیا بریلویوں کی طر ف سے کا غذ آیا کہ آپ اس پر شر طیں لکھ دیں مو لا نا جھنگو ی فرمانے لگے کہ مجھے شرطو ں وغیر ہ کا کوئی پتہ نہیں نہ میں نے کبھی لکھی ہیں اور نہ پڑھی ہے ۔البتہ مناظرہ میں کر لوں گا۔ تو اس کا جو اب کیا ہو گا میں نے کہا کہ اس کا جو اب ایسا لکھا جا سکتاہے کہ یہ بغیر منا ظر ہ کے بھا گ جائیں اور ایک یہ کہ منا ظرہ کر کے بھا گیں اگر آپ انتا لکھ دیں کہ

" مولو ی احمد رضا نے علما ئے دویوبند پر جھوٹ بو لے ہیں اور وہ دنیا میں بے مثا ل جھوٹا تھا جھوٹ تو مرزا نے بو لے مگر قادیا ن میں بیٹھ کر سو نیا گا ند ھی نے بھی بولے مگر دہلی میں بیٹھ کر لیکن مکہ مد ینہ میں جا کر کوئی اعلی حضرت ہی جھوٹ بو ل سکتا ہے ادنیٰ حضرت کی ہمت نہیں ہے ۔جہا ں دنیا تو بہ کر نے کے لیے جاتی ہے یہ وہاں بھی جھوٹ بو لنے کے لیے گیا "

اگر چہ اس کو بر یلو ی برا منا ئیں اسی تر تیب سے مناظر ہ ہو گا جو اعلی حضرت نے رکھی ہے۔ لیکن بر یلوی مر سکتا ہے اس ترتیب سے مناظرہ نہیں کر سکتا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم عا م فہم اند از رکھتے ہیں کہ دیکھو ان کی زبا ن عر بی ہے جو حو الہ پیش کئے گئے وہ اردو کے تھے ہم پہلے مناظرہ میں دس آ دمی بٹھا لیں گے سمجھدار ایک طرف ۔

حسام الحر مین کا صفحہ فوٹو سٹیٹ کرائیں گے کہ مو لا نا نا نو تو ی کی یہ عبارت اس نے پیش کی ہے ۔عر بی زبا ن میں اردو بھی ان کو دیں گے کہ یہ تحذ یر النا س رکھی۔ اس سے وہ صفحہ فوٹو سٹیٹ کروا دی جس میں اسی تر تیب سے عبارت ہو اب وہ بر یلو ی کر نہیں سکتے ، کیو ں وہاں تو تین صفحو ں سے صفحہ نمبر ۵ ۱ سے ۷ ۲ سے اور ۰ ۳سے آدھاآدھا فقرہ لے کر جوڑا گیا ہے پھر بات بنا ئی گئی ہے۔ اسے مولا نا نا نوتو ی کی عبارت اور بات کوئی نہیں کہہ سکتا مو لا نا نا نوتو ی آخر انسا ن ہیں یہ ظلم خدا کے قرآن پر بھی اگر کیا جائے تو وہاں بھی لوگ غلط مطلب نکا ل سکتے ہیں جیسے یوں کہا  جائے ان الذ ین آمنو وعملو الصلحت سید خلو ذن جھنم داخر ین کوئی کہے میں چیلنج کرتا ہوں اس کا ایک ایک لفظ قرآن میں ہے تو کہہ سکتا ہے اب یہاں پر صرف دو جگہ سے عبارہ جو ڑی ہے تین جگہ سے بھی نہیں دنیا میں کوئی ماں کا لال اس کو قرآن کی عبارت اور قرآن کا متن نہیں کہہ سکتا اگر یہ ظلم خد اکی کتا ب پر شرو ع کر دیا جائے توالٹا مطلب نکل سکتا ہے اب مو لو ی احمد رضا خا ن نے جو تین جگہ سے عبارت جو ڑ ی ہے اس لئے ہم ان کو کہتے ہیں کہ کسی جگہ بعینہ عبارت دکھا ئیں دیں ہم ان کو منہ ما نگا انعا م دیں گے لیکن وہ نہیں دکھا سکتے ۔

دوسرا مو لا نا گنگو ہی رحمتہ اللہ علیہ پر اعترا ض کیا ہے انہو ں نے لکھا ہے کہ اللہ تعا لی با لفعل جھوٹ بولتے ہیں ایک ہے بو ل سکنا ایک ہے بولتے ہیں جبکہ فتاویٰ رشید یہ میں آپ سے سوال ہو ا تو آپ نے لکھا کہ جو یہ کہتا ہے خدا جھوٹ بولتا ہے وہ کافر ہے ومن اصدق من اللہ قیلا آ گے پو ری تفصیل سے اس کے کفر کووا ضح کیا ہے۔

اب جس بات کو مو لا نا گنگو ہی کفر کہتے ہیں احمد رضا خا ن الز ا م حضرت پر حر م پا ک میں بیٹھ کر لگا رہا ہے مد ینہ پا ک میں بیٹھ کر لگا رہا ہے۔ اگر اس طرح کو ئی پا در ی یہو د ی قرآن کے سا تھ کر لے کہ دیکھو قرآن میں کتنا صاف لکھا ہو ا ہے ان اللہ ھوالمسیح ابن مر یم اس میں ذرہ شک نہیں کہ مریم کا بیٹا مسیح خدا ہے حالانکہ پوری بات یوں ہے لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم اگر یہاں پر لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم کہے اس کو کوئی خدائی حکم کہے گا ؟ ایسا بڑا ظلم احمد رضانے فتاویٰ رشیدیہ پر کیا جس بات کو مولانا گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ کفر کہہ رہے ہیں وہ مولانا کا عقید ہ بتلارہا ہے تو اس ترتیب پر آج تک مولوی بریلوی مناظرہ کرنے پر تیار نہیں۔

ا س لئے جو ان کے ادنیٰ حضرت تھے مفتی احمد یا ر گجراتی اس نے کتاب لکھی ”جاءالحق “ اس میں اس نے نئی ترتیب دی علماءدیوبند کی عبارتوں کی جو اعلیٰ حضرت والی نہیں وہ نئی ترتیب ہے آج کل بریلوی اس ترتیب پر مناظر ہ کر تے ہیں اس لئے میں لکھ دیا کر تا ہوں کہ اعلیٰ حضرت کی ترتیب کے مقابلے میں کسی ادنیٰ حضرت کی ترتیب ہر گز قبول نہیں کی جائے گی اور حرمین شریفین کی ترتیب کے مقابلے میں گجرات کی ترتیب قبول نہیں کی جائیگی ۔

مناظرہ

میں ایک دفعہ بہاؤلنگر کے علاقہ میں گیا ۔فدائی شاہ قصبہ میں مناظرہ کے لئے گیا ان کے آپس میں جو مسئلے اختلافی تھے صلوٰة وسلام پڑھنا تیجہ ،چالیسواں ،نو ر بشر ،علم غیب وغیر ہ یہ سارے لکھ کر دیے مناظر اورصاحب تھے وہ موجود نہیں تھے ۔مجھے کہا کہ آپ ان کے معین ہیں آپ دستخط کر دیں میں نے کہا ٹھیک سب مسئلوں پر مناظرہ ہو جائے گا جب بریلوی مولوی کے پا س پہنچی تو اس نے ساری کاٹ دی اور اس کے دوسرے صفحہ پر لکھا کہ

"اشرف علی تھانوی گستاخ رسول تھا اس کی گستاخی پر اطلاع پانے کے بعد اس کو اگر کو مسلمان سمجھے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے وہ لے کر میرے پاس آگئے "۔

ہمارے مناظر باہر کہیں پھرنے گئے ہوئے تھے ابھی تک آئے نہیں تھے میں وہ کاغذ لے کر وہاں چلا گیا تین چار سو آدمی بیٹھے تھے ان کے مناظر بھی بیٹھے تھے میں نے کہا کہ اس مجمع (گاؤں ) میں نہ کو ئی مولانا تھانوی کا مرید ہے اور نہ میرا ان کا جھگڑا تو صلوٰة وسلام پر ہو تا ہے کہنے لگا

"جی پہلے ایمان کی بات ہوگی پہلے ایمان کی ....یہ مسئلے بعد کی بات ہے میں نے کہا ٹھیک ہے یہ موضوع آپ نے لکھا ہے ایمان ہی کا موضوع میں بھی لکھتا ہوں کہنے لگا لکھیں آپ ۔میں نے لکھا مولوی احمد رضا بریلوی اپنے اسی فتویٰ کے مطابق حسام الحرمین جوحرمین شریفین سے لایا تھا اپنی تحریروں کے آئینہ میں ایسا کافر مر تد ہے جس کو پَر لے درجہ کا لُچا لفنگا بد معاش مسلمان بھی سمجھے وہ کافر مرتد بے ایمان دائر ہ اسلام سے خارج ہے اس کا نکاح کسی حیوان انسان سے جائز نہیں صحبت خالص گناہ اور ساری اولاد ولدالحرام ہوگی "

یہ میں نے لکھ کر دے دیا اور کہا کہ "یہ میرا موضوع ہے اور وہ آپ کا موضوع ہے "اب تو اس کا پسینہ بہنے لگا کہنے لگا "کہ کیاعلماءدیوبند نے احمد رضاخان کو کافر کہا ہے کہاں کہا ہے ؟"میں نے کہا کہ "میں نے کہاں لکھا ہے کہ علماءدیوبند نے احمد رضاخان کو کافر کہا ہے بلکہ وہ خود اپنے فتویٰ سے کافر ہو گیا ہے علماءدیوبند کو کہنے کی کیا ضرورت تھی ؟ اب جو وہ فتویٰ لایا تھا اس سے ثابت کر نا کہ وہ اس سے کافر ہو گیا ہے یہ میرا کام ہے "کہنے لگا" اس فتویٰ سے ثابت نہیں ہو سکے گا "میں نے کہا "کیسے ثابت نہیں ہو سکے گا بلکہ اسی سے ثابت ہے "اور سامنے جو بر یلوی بیٹھے ہوئے تھے وہ سارے دیہاتی بدھو تھے میں نے ان سے کہا" یہ بتاؤ یہ کہتا ہے کہ معاذا للہ خدالونڈے باز ہے اور لونڈے بازی کر واتا بھی ہے ایسا آدمی مسلمان ہے یا کافر ؟ "سارے کہنے لگے کہ" کافر ہے "میں نے کہا" جو یہ کہے کہ اس کو کافر نہ کہو کیونکہ اس کے فقرے میں اسلامی پہلو بھی موجود ہے اگر چہ مغلوب ہے کہنے لگے وہ بھی کافر ہے "میں نے کہا "وہی احمد رضاخان ہے "میں نے کہا "دوسری بات یہ ہے کہ ایک آدمی یہ کہتا ہے کہ اللہ کے ساتھ مردوں والی علامت بھی ہے اور عورتوں والی علامت بھی ہے (معاذاللہ ) وہ فاعل بھی ہے مفعول بھی وہ کھاتا بھی ہے پیتا بھی ہے ناچتا بھی ہے ایسا آدمی مسلمان ہے یا کافر" سارے کہنے لگے کہ "کافر ہے "میں نے کہا جو یہ کہے کہ" اس کو کافر نہ کہواور وجہ یہ بتلائے کہ اس کے اس فقرے میں اسلامی نقطہ موجود ہے "میں نے کہا کہ وہ سب کہنے لگے کہ "وہ بھی کافر ہے "میں نے کہا" وہی احمد رضاخان ہے "اب انکا مناظر تو سمجھ گیا کہنے لگا "نہیں جی....اب اس پر مناظرہ نہیں ہوگا "میں نے کہا "نہیں نہیں پہلے ایمان پر مناظرہ ہو گا ہم پر آپ نے الزام لگا یا سوسال ہو گئے ہم سو سال سے صفائی دیتے چلے آرہے ہیں اپنی طرف سے اور کوئی بھی طریقہ ایسا نہیں رہ گیا کہ ہم نے اس طریقہ سے اپنی صفایہ پیش نہ کی ہو لیکن یہ ایسا بدقسمت اور کم بخت ہے کہ یہ سوسال سے کفر کے فتویٰ کے نیچے دبا ہو ا ہے اور کوئی بریلوی بھی اسے وہاں سے نکالنے کے لئے تیار نہیں ہے اور وہ چیخ وپکار کر رہا ہے اور رورہا ہے بیچارہ تو اس لئے یہ جو کچھ سنی انٹر نیشنل کانفرس ملتان پر ہوا ہے یہ سب کچھ اسی کی باز گشت بھی البتہ انہوں نے احمد رضاخان والی ترتیب کو بدل دیا ہے "۔

اعتراض

یہ ہے کہ دیوبندی یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جھوٹ بو ل سکتا ہے ۔

جو اب

دیکھئے انہوں نے عنوان کو بگاڑا ہو ا ہے ۔مسئلہ کچھ بھی نہیں ہے اصل مسئلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات دوقسم پر ہیں (۱)صفات ذاتیہ (۲)صفات فعلیہ ۔صفات ذاتیہ وہ ہیں کہ ان کی ضد سے خدا کو موصوف نہ کیا جا سکے جیسے اللہ الحی ہیں ا لمیت نہیں القادر ہیں العاجز نہیں العلیم ہیں جاہل نہیں ۔یہ جو صفات ہیں ان کو صفات ذاتیہ کہا جاتا ہے کہ جس کی ضد سے خدا کو موصوف نہ کیا جاسکے صفات فعلیہ وہ ہوتی ہے کہ دونوں ضدیں خدا میں پائی جارہی ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ المعز بھی ہیں اور المذل بھی ہیں اللہ تعالیٰ ا لمحی بھی ہیں اور الممیت بھی ہیں زندگی دینے والے بھی ہیں اور موت دینے والے بھی ۔تو خلاصہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ کی صفات ذاتیہ بھی ہیں اور صفات فعلیہ بھی ہیں ان صفات فعلیہ کے بارے میں کسی زمانے میں اہلسنت والجماعت اور معتزلہ کے درمیان اختلاف ہو ا تھا ۔

اہلسنت والجماعت اور معتزلہ کے مابین اختلاف

اہلسنت والجماعت اور معتزلہ کے مابین اس بات پر اختلاف ہو اکہ وہ چیز جو کہ خلاف واقع ہے اللہ تعالیٰ اس پر بھی قادر ہے یا نہیں اس کا تعلق اللہ کے اختیار سے ہے یا اضطرار سے ہے مثلاً سورج کی روشنی دینے میں مختار نہیں مجبور ہے ۔آگ جلانے میں مختار نہیں مجبور ہے۔آگ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اس کی قمیص جلائے اور فلاں کی قمیص نہ جلائے۔ تو کیا اللہ تعالیٰ کی صفات فعلیہ مثلاً اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کو عزت دی تو عین اسی وقت اس کی ذلت بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں تھی یا نہیں تو اہلسنت والجماعت کے نزدیک اس مسئلہ کا نام ہے ”اختیار باری تعالیٰ “ ۔

اختیار کہتے ہی تب ہیں کہ جب دونوں میں سے ایک کو اپنے اختیار سے قبول کر لے مثلاً اگر کوئی آدمی ایک راستہ پر جارہاہے تو کوئی بھی نہیں کہے گا کہ اس نے راستہ اختیار کیا کیونکہ وہ تو ہے ہی ایک اب اگر دوراستے آجائیں ایک ادھر جارہا ہے اور ایک ادھر جارہا ہے تو اب یہ اپنے اختیار کو استعمال کر ے گا اور ان میں سے ایک راستہ کو اختیار کر گا ۔

اسی طرح جس وقت اللہ تعالیٰ نے ہمیں حیات فرمائی ہے اس وقت ہم اللہ تعالیٰ کی صفت المحی کا مظہر ہیں اور اسی وقت ہماری موت خدا کے اختیار میں ہے یانہیں اور ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ نے عزت دی اسی وقت اس کی ذلت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے یا نہیں ۔تو اہلسنت والجماعت یہ کہتے ہیں کہ دونوں چیز یں اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار سے دی ہیں لہذا یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں ایک ہی وقت میں۔

اب معتزلہ نے اس کا معنی بگاڑ اکہ "اس وقت ہماری زندگی واقع ہے موت خلاف واقع ہے اور خلاف واقع کو عربی میں کذب کہتے ہیں تو اب انہوں نے ہمارے اختیار باری تعالیٰ والے عنوان کو بدل کر اس کا نام اور عنوان رکھ دیا ”امکان الکذب “کہ خلاف واقع جو بات ہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ۔

تواب مسئلہ تو کوئی ایسانہیں تھا لیکن اس کا عوان بگاڑدیا گیا کہ ہمارے ہاں یہ عنوان ہے ہی نہیں ہمارے ہاں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صفات فعلیہ میں سے جس پہلو کو راجح قرار دیتے ہیں تو وہ اپنے اختیار سے کرتے ہیں کسی کے لئے حیات کے پہلوکو راجح قرار دیا اور کسی کی موت کے پہلوکو راجح کیا تو صفت ممیت کا ظہور ہو گیا لیکن معتزلہ اس بات کے قائل نہیں ہیں۔

تو اس لئے اب ہمارا ان پر یہ الزام تھا کہ یہ خدا کی قدرت کا انکار کر تے ہیں اب انہوں نے اپنا بچاؤ کر نے کے لئے یہ کہہ دیا اور عنوان بدل دیا کہ یہ دیوبندی کہتے ہیں کہ خدا جھوٹ بو ل سکتا ہے یعنی یہ امکان کذب کے قائل ہیں خلاصہ یہ ہوا کو ئی مسئلہ ایسا نہیں تھا صرف معتزلہ نے عنوان بگاڑا تھا اور اس کو احمد رضاخان لے رہا ہے اب پھر اس امکان کو احمد رضاخان آگے بڑھاتا ہے کہ اگر امکان ہے خلاف واقع کا تو پھر خدا پر بھی ہو سکتا ہے یعنی صفات ذاتیہ کی طرف لے جاتا ہے یہ کر سکتا ہے وہ کر سکتا ہے پھر کہتا ہے کہ امکان کو وقوع لازم ہے تو ایک مناظرہ میں ان کے مناظر کے منہ سے یہ نکلاکہ امکان کو وقوع لازم ہے تو پھر میں نے کہا کہ آپ لکھیں احمد رضاخان زانی تھا کیونکہ اس کا امکان ہے اس لئے کہ وہ ہیجڑا تو نہیں تھا وہ چور تھا میں نے پھر جتنے صیغے مجھے یاد تھے سب بیان کر دیئے اب بے چارہ ادھر ادھر بھاگنے لگا میں نے کہادیکھواحمد رضاخان میں ان چیزوں کا یقینی امکان ہے لیکن یہ اس کو زانی لکھنے کے لئے تیار نہیں اس کو چور لکھنے کے لئے تیار نہیں لیکن اللہ توالیٰ کے خلاف دیکھوکس طرح زبان درازی کر رہا ہے میں نے کہاا صل میں یہ اللہ تعالیٰ کو گالیاں دینا چاہتا ہے لیکن بندوق ویوبندیوں کے کندھو ں پر رکھ کر چلاتا ہے کہ انہوں نے گالی دی ہے حالانکہ انہوں نے گالی نہیں دی یہ سب گالیاں اسی نے دی ہیں ۔

نوٹ

آگے وہی باتیں ہیں جو رسالہ ”جھوٹ کے پول کھل گیا “میں ہیں وہاں ملاحظہ ہو چندایسی باتیں جو رسالہ میں نہیں وہ لکھی جاتی ہیں ۔

حضور ﷺ کا حاضر ناظر ہو نا بطریق قیاس

حضورﷺکے حاضر ناظر ہو نے پر عبدالسمیع نے یہ قیاس کیا تھا کہ شیطان تو ہر جگہ پہنچتا ہے تو پھر حضورﷺ ہر جگہ کیوں حاضر ناظر نہیں ۔تو مولانا خلیل احمد صاحب نے اس کا جواب یہ دیا تھا کہ

"عقائد کے مسئلے قیاس سے ثابت نہیں ہو سکتے ہر نوع کو اللہ تعالیٰ نے ایک خصوصیت بخشی ہے کہ وہ خصوصیت دوسروں کے ساتھ متصف نہیں کی جاسکتی "

اس پر انہوں نے کچھ مثالیں بھی دی ہیں لیکن میں ذرا عام فہم مثالیں دیا کر تا ہوں مثلا ً یہ بتائیں کہ چیونٹی افضل ہے ؟یا احمد رضاخان ؟تو ظاہر ہے کہ چیونٹی افضل ہے ۔بر یلوی کہتے ہیں کہ احمد رضاخان۔

بہر حال چیونٹی کو اللہ تعالیٰ نے قوت شامہ دی ہے کہ کہیں میٹھا چھپا کر رکھیں وہ وہاں پہنچ جاتی ہے اب کوئی یہ کہے کہ جب چیونٹی سونگھ کر پہنچ جاتی ہے تو احمد رضاخان تو اس سے افضل ہے ۔لہذا اس کی قوت شامہ بھی زیادہ ہونی چاہئے تو اب اگر احمد رضاخان سونگھ کر نہ بتلاسکے تو چیونٹی سے تو بدتر ہوگا۔

جو گدھ ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے ایک نوعی خصوصیت یہ دی ہے کہ اس کی نظر اتنی تیز رکھی ہے کہ تین دن میں جہاں تک پہنچا جاسکتا ہے وہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے۔ جب یہ تین دن کی مسافت سے مردار کو دیکھ سکتی ہے تو احمد رضاخان تو ایک مہینہ کی مسافت سے دیکھ سکتا ہوگا ۔

دیکھئے پاخانہ کا جو کیڑا ہے س کو پاخانہ کی لذت کاا حساس ہے کہ اس کی لذت کیسے ہوتی ہے احمد رضاخان تو اس سے افضل ہے پھر اس کو تو بہت زیادہ پتہ ہو گا کہ اس کی لذت کیسی ہے تو احمد رضاخان یقینا افضل ہے جب ایک نجاست خور گدھ اڑسکتا ہے تو احمد رخاخان کو بھی یقینا اڑنا چاہئے اب اڑنا یہ ایک نو عی خصوصیت ہے تو یہ کتنی بڑی جہالت تھی عبدالسمیع رامپوری کی کہ اس نے نوعی خصوصیات پر پیغمبر کو قیاس کر نا شروع کر دیا اب اس کے جواب میں وہ بالکل لاجو اب تھا لیکن احمد رضانے اس کے جواب کو مولانا کی طرف منسوب کر دیا کہ وہ گستاخ رسول ہے یہ شیطان کا علم حضور ﷺکے علم سے زیادہ مانتا ہے حالانکہ بنیاد بھی اسی نے رکھی تھی اور نوعی خصوصیات پر قیاس بھی اسی نے کیا تھا

احمد رضاخان کا مولانا رشید احمد گنگوہی پر عظیم بہتان

احمد رضاخان نے مولان ارشید احمد گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ پر یہ بہتان باندھا ہے کہ اس نے حضور ﷺ کے میلاد کو کنھیاکے میلاد سے تشبیہ دی ہے کنھیا کر شن کو کہتے ہیں ہندؤوں کے دو بزرگ گزرے ہیں ایک کا نام ”رام چند“اور دوسرے کا نام ”کر شن جی مہاراج“ تو یہ کرشن کو کنھیا بھی کہتے تھے یہ اس کا لقب تھا اور ان کے تہوار ہو تے ہیں ان کے ناموں پر جیسا کہ ہمارے تہوار ہو تے ہیں ۷ ۴ ۹ ۱ءمیں جب پاکستان بنا ہے میں اس وقت ساتویں جماعت پڑھتا تھا ہمارے ہیڈ ماسٹر داؤت رام تھے اس وقت ہندوسکھ استاد ہوتے تھے تو اس وقت ۶ ۴ ۹ ۱ءپہلی دفعہ اوکاڑہ میں عید میلاد النبی کا اشتہار لگا پہلے کو ئی جانتا بھی نہیں تھا تو ہمارے ہیڈ ماسٹرپردیال سنگھ وہ لالہ داؤت رام کو بتارہے تھے کہ پہلے مسلمانوں کی دو عید یں تھیں اب تین ہو گئی ہیں ایک ہو تی ہے گوشت والی اور ایک ہو تی ہے سویاں والی اب ایک عید دال والی آئی ہے ....الخ

سوال:

تہذیب الناس میں لکھا ہے کہ حضور ﷺ کا خیال آنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے

جو اب:

یہ دیوبندی کی کسی کتاب میں بھی نہیں ہے یہ تو اعتراض بر یلوی صراط مستقیم نامی کتاب پر کر تے ہیں اور یہ حضرت سید احمد شہید بریلوی کے ملفوظات ہیں اور یہ چار بابوں میں ہے۔ پہلا اور چوتھا باب مو لانا اسما عیل شہید نے لکھا ہے دوسرا اور تیسرا بات مولانا عبدالحئی نے لکھا ہے اور یہ اشکال والی بات تیسرے باب میں ہے اس کے تو لکھنے میں بھی شاہ اسماعیل شہید کا دخل نہیں ہے لیکن سارا الزام بریلوی شاہ اسماعیل شہید پر لگا تے ہیں۔

وہاں جو مسئلہ لکھا ہو اہے یعنی صراط مستقیم میں یہ ہے کہ نماز کے اندروساوس کے بارے میں خیال نہیں کر نا چاہئے لکھا ہے کہ ہر قسم کے آدمی کو وساوس الگ الگ قسم کے آتے ہیں مثلاً وہ لکھتے ہیں کہ اگر طلباءاما م کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہوں تو وہ صیغہ اور ترکیب سوچنا شروع کر دیتے ہیں اسی طرح زمینداروں کو زمین کے متعلق وساوس آتے ہیں تو وسوسے دوقسم کے ہو ئے ایک وہ جن کو آدمی پسند نہیں کر تا ایسے وساوس کو انسان خود دفع کر تا ہے اور ایک وسوسہ ایسا آتا ہے جو اس کے محبوب سے تعلق رکھتا ہے اور انسان کا دل اسے چھوڑنے کو نہیں چاہتا ان دوقسم کے وسوسوں کے خوف میں سید احمد شہید فرق بیان کر رہے تھے ۔

اس کی ایک مثال حدیث سے یہ ہے کہ کتا اور عورت سامنے سے گزر جائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے اور ایک میں کہ نہیں ٹوٹتی تو علماءیہی تشریح بیان کر تے ہیں کہ نماز کا خشوع ختم ہو جاتا ہے حضرت نے مثال میں دوچیزوں کا نام لیا ہے کتے کا اروعورت کا عورت کا خیال آجائے تو دل کو چمٹ جائے گا اور اگر کتے کا خیال آجائے تو نفرت پیدا ہو گی اب نفرت آجائے تو بھی اصل نماز میں خیال نہیں رہے گا اگر کسی کی محبت آجائے تو بھی اصل نماز کی طرف خیال نہیں رہے گا وہ سمجھا رہے ہیں کہ طلباءیہ سمجھیں کہ ہم اگر نماز میں قرآن کی آیت کے صیغوں کے متعلق سوچتے رہے تو یہ وصف نماز میں مخل نہیں ہے کیونکہ وہ تو اس کو باعث ثواب سمجھیں گے کیونکہ وہ تو سبق یا د کر رہے ہیں تو اس لئے ایسی و صف سے جن کی طرف دل جم جاتا ہے یہ زیادہ نقصان دہ ہے بنسبت دوسروں کے کیونکہ انسان اس کو دل سے نکالنا نہیں چاہتا ۔

اس کی دومثالیں کافی ہے ایک تو شامی شریف میں ہے باب کا عنوان ہے اطالة الرکوع بالجائی یعنی آنے والے کے لئے رکو ع لمباکیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ جماعت کھڑے ہے امام صاحب رکوع میں چلے گئے ہیں اب اس نے آواز سنی کہ لوگ بھاگے آرہے ہیں اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا امام دوتین تسبیح زیادہ کر سکتا ہے کہ آنے والے رکو ع میں مل جائیں اور رکعت پالیں یا زیادہ نہیں کر سکتا ؟ اس پر امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر امام صاحب کو یہ معلوم نہیں کہ آنے والے کو ن ہیں تو پھر وہ ایک دو تسبیح لمبے کر لیں اگر معلوم ہے کہ میرے استاد یا شیخ آرہے ہیں تو پھر لمبا نہیں کر سکتا کیونکہ خطرہ ہے کہ کہیں شرک لازم نہ آجائے کیونکہ عوام کا خیال تعظیم سے دل میں نہیں آئے گا اور نماز خاص اللہ کی تعظیم کا نام ہے اور جب اپنے استاد اور پیر صاحب کا خیال دل میں آئے گا تو اس وقت ان کی تعظیم بھی دل میں آگئی تو یہ تعظیم نماز کے کمال میں مخل ہو جائے گی یہ تو امام صاحب نے فرمایا ہے اور یہ عبارت شامی کی خود امام احمد رضاخان نے بھی احکام شرک کی پہلی جلد میں نقل کی ہے اب اصل میں بظاہر تقابل محبت ونفرت کا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ تقابل ہے حضور ﷺ کے خیال اور گدھے وگھوڑے کے خیال کے آجانے کا ۔

ایک اور مثال سمجھیں کہ آپ نماز پڑھ رہے ہیں اور سامنے سترہ رکھیں تو آپ ے یہ مائیک آگے کھڑا کر لیا نماز پڑھ لی کو ئی اعتراض کی بات نہیں اب مولوی صاحب کا دل چاہا کہ میں بھی نماز پڑھ لوں لیکن سترہ نہیں ملا وہ شیخ صاحب کو کہتا ہے کہ آپ میرے آگے بیٹھ جائیں تاکہ میں آپ کو سترہ بنالوں اب اگر شیخ صاحب آگے بیٹھے ہو نگے تو ان کی محبت وعظمت ضرور دل میں آئے گی اب اس سے روکا جارہا ہے کہ آپ ایسا نہ کریں لیکن بریلوی کہتے ہیں کہ دیکھوشیخ الحدیث صاحب کی اتنی قدر بھی نہیں ہے لکڑی کا سترہ تو رکھنا جائز ہے لیکن شیخ الحدیث صاحب کو سترہ بنانا جائز نہیں ؟ تو یہاں لکڑی کا اور شیخ الحدیث کا مقابلہ نہیں مقابلہ یہ ہے کہ لکڑی کی عظمت دل میں نہیں ہے اور شیخ الحدیث کی عظمت ومحبت دل میں ہے اور نماز خالص اللہ کی عبادت کا نام ہے یہ تو ہے ہمارے سمجھانے کے لئے۔

لیکن احمدرضاخان کے لئے دلیل یہی ہے کہ فتاویٰ رضویہ میں جو مسئلہ لکھاہے کہ اگر نمازی قرآن دیکھ کر پڑھ لے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے لیکن عورت کی شرمگاہ پر نظر پڑجائے تو نماز نہیں ٹوٹتی اب بریلویوں کو تو یہی مسئلہ بتانا چاہئے کہ تمہارے احمد رضاخان نے تو یہ لکھا ہے کہ ایک طرف قرآن ہے اور ایک طرف عورت کی شرمگاہ ہے یہاں اصل میں یہ تقابل نہیں بلکہ تقابل عمل قلیل وعمل کثیر کا ہے کہ قرآن کا کھولنا اور پڑھنا یہ عمل کثیر ہے اور نظر کا پڑجانا یہ عمل قلیل ہے عمل کثیر سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور عمل قلیل سے نماز نہیں ٹوٹتی مکروہ ہو تی ہے تو اس قسم کے تقابل بعض اوقات ہوتے ہیں ۔

فقہی جزئی

فقہ میں ایک جزئی لکھی ہے کہ دوعورتیں جمرہ عقبہ پر گئیں ۔اور شیطان کو کنکریاں ماررہی ہیں لیکن کنکریاں ملتی نہیں تو ایک نے اپنا ہار گلے سے اتار کر ماردیا اور ایک نے جوتا مار دیا تو لکھا ہے کہ جس نے جوتا مارا اس کا واجب ادا ہو گیا اور جس نے ہار مارا اس کا واجب ادا نہیں ہوا کیونکہ مقصود اس کی توہین کر نا ہے اور سونے کے ہار مارنے میں اس کی توہین نہیں اور جو تا مارے میں اس کی توہین ہے تو اسی طرح وہاں پر بھی بات نہ خیال لانے کی ہے نہ خیال آنے کی بلکہ وہاں صرف ہمت ہے خیال ہٹانے کی ایک ہے ۔

حضور ﷺ کا خیال آنا اس کے بارے میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ اس سے نماز ٹوٹ جائے گی ایک ہے حضور ﷺ کا خیال لانا اس کے بارے میں خود فتاویٰ رضویہ میں لکھا ہے کہ جب السلام علیک ایھاالنبی پڑھو تو حضرت کا خیال لا کر پڑھو کہ میں حضورﷺ پر سلام بھیج رہا ہو ں تو خیال لانے سے بھی نما ز نہیں ٹوٹتی بلکہ حکم ہے کہ جب السلام علیک ایھاالنبی پڑھو تو حضور ﷺ کا خیال لا یہ فتاویٰ دیوبند میں بھی ہے اور فتح الملہم شرح مسلم میں بھی ہے ایک ہے خیال ہٹا نا کہ آگے پیر صاحب کو بٹھا لیا تصور شیخ جو ان کے زمانہ میں تھا اب خدا کی طرف دھیان نہیں بلکہ خدا سے دھیان ہٹاکر صرف اس کی طرف توجہ کی جارہی ہے اب جب پوری توجہ اس کی طرف ہو گئی خداسے ہٹ گئی تو اب ایاک نعبدوایاک نستعین میں جو خطاب ہو گا اس کو ہوگا یااللہ تعالیٰ کو ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ اللہ سے ہٹ کر اسی کو ہوگا اس کو صرف ہمت کہتے ہیں کہ خدا سے توجہ ہٹا کر اپنے پیر کی طرف توجہ کر لینا کہ کسی اور کا خیال بھی نہ آئے یا حضور ﷺکی طرف جمالینا اس کا وہاں پر ذکر ہے کہ یہ کمال نماز کے منافی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ یہ عبارت سید احمد شہید کی ہے اور ان کو احمد رضاکافر نہیں کہتا بلکہ وہ کہتا ہے کہ اس کو کافر نہ کہو میں بھی کافر نہیں کہتا کیونکہ اس کی عبارتوں میں اسلام کا پہلو موجود ہے اب ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ ساری باتیں چونکہ اس کی کتاب میں موجود ہےں اس لئے ہم اس کو کافر لکھتے ہیں اب تم بھی اسے کافر لکھو کیونکہ اس نے حضور ﷺ کی توہین کی ہے ۔

واقعہ

بہاؤلپور میں ایک مولوی محمد احمد صاحب گزرے ہیں ٹانگو ں سے معذور تھے اب وہ فوت ہو چکے ہیں میں ان کے پاس بیٹھا تھا ایک آدمی ان کے پاس آیا اس نے کہا کہ لکھا ہے کہ حضور ﷺ کا خیال آجائے تو نماز ٹوٹ جاتی ہے اور گدھے کا خیال آجائے تو نہیں ٹوٹتی تو کیا آپ کے نزدیک حضورﷺ گدگے سے بھی بدتر ہیں (نعوذبااللہ ) میں نے کہا تو بتا کہ دونوں برابر ہیں ؟ میں نے کہا کہ ایک غصے کی بات ہے میں تجھ سے پوچھتاہوں کہ تیری بیوی بیٹیاں بہینں سب بیٹھی ہوں اور ایک گدھا خاص حالت میں سامنے آجائے اب وہ سامنے پھر رہا ہے اس کے بعد اسی خاص حالت میں تیراپیر ننگا سامنے آجائے ان کے ،تو تجھے گدھے پر زیادہ غصہ آئے گایا پیر پر زیادہ غصہ آئے گا ؟اب اگر تو پیر صاحب کو ڈانٹ ڈپٹ کرے اور پیر صاحب کہے کہ کیا میں گدھے سے بھی گیا گزرا اور بدتر ہوں کم بخت وہ گدھا آگے سامنے پھر رہا ہے اور اس کا تو مجھے سے بھی زیادہ لمبا ہے اس پر غصے نہیں ہو رہا اور مجھ پر غصہ ہو رہا ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ تو بتا تجھے زیادہ غصہ گدھے پر آئے گا یا پیر صاحب پر ؟

خلاصہ یہ نکلا یہ سب اشتعال انگیز باتیں ہو تی ہیں مسئلہ کی کوئی بات نہیں ہوتی اس لئے میں جب بھی مناظرہ کر تا ہوں یہی مسئلہ سامنے رکھتاہوں کہ اس کو پہلے حل کرو وہ یہی کہیں گے کہ یہ عمل کثیر وعمل قلیل کا تقابل ہے نہ کہ جیسے حقیقت اب یہ باتیں عام آدمی کی سمجھ سے باہر ہوتی ہیں یہ صرف لوگوں کو اشتعال انگیزی کر نے کے لئے یہ باتیں کر تے اور پمفلٹ چھاپتے ہیں اور بریلویوں سے عبارات پر مناظرہ کر نا ہو تو اس کے لئے دوچھوٹی چھوٹی کتابیں کافی ہیں

۱-تمہید ایمان -۲- الکوکبة الشھابیہ فی کفرات ابی الوھابیہ

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین

 

 

 

Other Menu

Latest Articles

Who's Online

We have 215 guests online

Statistics

Members : 6
Content : 1066
Content View Hits : 4425035

Get Latest Feed

Enter you email address to get in touch with latest updates

یہاں اپنا ای میل ایڈریس رجسٹر کروائیں اور ویب سائٹ کی تازہ اپ ڈیٹس سے باخبر رہیں

Most Read Articles

  1. مولانا اسماعیل محمدی
  2. فضائل اعمال
  3. مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی
  4. نفس کے پجاری - غیر مقلدین
  5. جنت البقیع میں مدفون علمائے دیوبند
  6. طاہر القادری رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔!! ضرور دیکھیں
  7. انٹرنیٹ کی کارستانیاں (ایک بدنصیب لڑکی کی داستان
  8. شیعہ مذہب کی ابتداء ۔۔۔ اور ان کا فرقوں میں بٹنا
  9. مولانا حق نواز جھنگوی ۔ آڈیو بیانات
  10. انگریز کا الاٹ کردہ لقب اہلحدیث واپس کرتے ہیں
  11. Mufti Manzoor Mengal
  12. فتنہ ڈاکٹر ذاکر نائیک
  13. مناظرہ کوہاٹ کی ویڈیوز
  14. مولانا ضیا ء الرحمن فاروقی ۔ آڈیو بیانات
  15. جوشخص شیعہ کے کفر میں توقف کرے تو وہ بھی ان جیسا کافر ہے۔
  16. ترک رفع الیدین والی حدیث کو کن کن محدثین نے صحیح قرار
  17. Shaikh Saad Al Ghamedi
  18. مناظرہ ترک رفع الیدین - محمد امین اوکاڑوی
  19. Ameer Shariat Syed Attaullah Shah Bukhari
  20. شیعوں کا عقیدہ ان کی کتابوں سے
  21. مصنف ابن ابی شیبہ کی ناف کےنیچےہاتھ باندھنےوالی روایت کی تحقیق
  22. تاریخی حولات جات۔ شیعہ کافر
  23. خاتم الانبیاء کا طریقہ نماز
  24. بیکاٹ فیس بک
  25. درس حدیث دارالعلوم دیوبند
  26. Maulana Ilyas Ghuman - Audio bayanat
  27. غیر مقلدین کے سوالوں کے جوابات
  28. بریلویت قصور۔ مولانا الیاس گھمن
  29. ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا
  30. اهل حدیث کے چهہ نمبر
  31. The Blindest Following
  32. ALLAH EXISTS WITHOUT A PLACE
  33. سلفی کون؟ حنفی یا غیرمقلد؟
  34. سنی مسلمان شیعہ کی تکفیر کیوں کرتے ہیں؟
  35. میں کیوں حنفی ہوا؟

Share you Idea

تمام حضرات سے گذارش ہے کہ سائیٹ کو ایکسپلور کرتے ہوئے اگر آپ کو کوئی خرابی نظر آئے یا اپ سائیٹ کی بہتری کیلئے کوئی مشورہ دینا چاہیں تو کنٹیکٹ اس کے پیج پر جا کر ہمیں ضرور مطلع فرمائیں

 

Ownislam:

This Website is dedicated to our beloved Prophet Muhammad (PBUH). In this website you will get the correct information regarding Islam in the light Holy Quran and the Authentic Hadith. It's time to understand and practice Islam properly so that we can spread the message and teachings of deen. Our zeal is to bring people back to real Jama'at of our Nabi Muhammad PBUH and Sahabas R.A.

We Would Like You To

Join .... Invite ... Share